مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي مَرَضِهِ ، وَوَفَاتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا أَطْلَعَهُ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ مِنْ ذَلِكَ . باب: نبی اکرم ﷺ کی بیماری اور آپ ﷺ کی وفات کا بیان اور اس بات کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس حوالے سے مطلع کر دیا تھا
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ ( إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ) حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ قَالَ : نُعِيَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَفْسُهُ حِينَ نَزَلَتْ ، فَأَخَذَ بِأَشَدِّ مَا كَانَ قَطُّ اجْتِهَادًا فِي أَمْرِ الْآخِرَةِ . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ ذَلِكَ : " جَاءَ الْفَتْحُ ، وَجَاءَ نَصْرُ اللَّهِ ، وَجَاءَ أَهْلُ الْيَمَنِ " . فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا أَهْلُ الْيَمَنِ ؟ قَالَ : " قَوْمٌ رَقِيقَةٌ أَفْئِدَتُهُمْ ، لَيِّنَةٌ قُلُوبُهُمْ ، الْإِيمَانُ وَالْفِقْهُ يَمَانٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِأَسَانِيدَ ، وَزَادَ : " وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ " . وَأَحَدُ أَسَانِيدِهِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب یہ سورت نازل ہوئی ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” جب اللہ کی مدد اور فتح آ گئی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ انہوں نے اسے پورا پڑھا ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے وصال کی اطلاع دی گئی تھی ، جب یہ سورت نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخرت کے معاملے کے حوالے سے بہت زیادہ عبادت کرنے لگے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد یہ ارشاد فرمایا : فتح آ گئی ہے ، اور اللہ کی مدد آ گئی ہے ، اور اہل یمن آ گئے ہیں ، ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اہل یمن کیسے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ ایسے لوگ ہیں کہ جن کے دل نرم ہیں اور مہربان ہیں ، اور ایمان اور سمجھ بوجھ یمانی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور معجم اوسط میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” دانائی یمنی ہے ۔ “ ان کی اسانید میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔