حدیث نمبر: 14193
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ يَسْتَعِينُهُ فِي شَيْءٍ قَالَ عِكْرِمَةُ : أُرَاهُ فِي دَمٍ ، فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا ، ثُمَّ قَالَ : " أَحْسَنْتُ إِلَيْكَ ؟ " . قَالَ الْأَعْرَابِيُّ : لَا ، وَلَا أَجْمَلْتَ . فَغَضِبَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ ، وَهَمُّوا أَنْ يَقُومُوا إِلَيْهِ . فَأَشَارَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْهِمْ : أَنْ كُفُّوا . فَلَمَّا قَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَلَغَ إِلَى مَنْزِلِهِ دَعَا الْأَعْرَابِيَّ إِلَى الْبَيْتِ ، فَقَالَ لَهُ : " إِنَّكَ جِئْتَنَا ، فَسَأَلْتَنَا فَأَعْطَيْنَاكَ ، فَقُلْتَ مَا قُلْتَ " . فَزَادَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا ، فَقَالَ : " أَحْسَنْتُ إِلَيْكَ ؟ " . فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ : نَعَمْ فَجَزَاكَ اللَّهُ مِنْ أَهْلٍ وَعَشِيرٍ خَيْرًا . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّكَ كُنْتَ جِئْتَنَا فَسَأَلْتَنَا فَأَعْطَيْنَاكَ ، فَقُلْتَ مَا قُلْتَ وَفِي نَفْسِ أَصْحَابِي عَلَيْكَ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ ، فَإِذَا جِئْتَ فَقُلْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ مَا قُلْتَ بَيْنَ يَدَيَّ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْ صُدُورِهِمْ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : فَلَمَّا جَاءَ الْأَعْرَابِيُّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ صَاحِبَكُمْ كَانَ جَاءَنَا ، فَسَأَلَنَا فَأَعْطَيْنَاهُ ، فَقَالَ مَا قَالَ ، وَإِنَّا قَدْ دَعَوْنَاهُ فَأَعْطَيْنَاهُ فَزَعَمَ أَنَّهُ قَدْ رَضِيَ أَكَذَاكَ ؟ " . قَالَ الْأَعْرَابِيُّ : نَعَمْ ، فَجَزَاكَ اللَّهُ مِنْ أَهْلٍ وَعَشِيرٍ خَيْرًا . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ مَثَلِي وَمَثَلَ هَذَا الْأَعْرَابِيِّ كَمَثَلِ رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ نَاقَةٌ فَشَرَدَتْ عَلَيْهِ ، فَاتَّبَعَهَا النَّاسُ فَلَمْ يَزِيدُوهَا إِلَّا نُفُورًا ، فَقَالَ صَاحِبُ النَّاقَةِ : خَلُّوا بَيْنِي وَبَيْنَ نَاقَتِي فَأَنَا أَرْفَقُ بِهَا وَأَعْلَمُ بِهَا ، فَتَوَجَّهَ إِلَيْهَا صَاحِبُ النَّاقَةِ فَأَخَذَ لَهَا مِنْ قُشَامِ الْأَرْضِ ، وَدَعَاهَا حَتَّى جَاءَتْ وَاسْتَجَابَتْ ، وَشَدَّ عَلَيْهَا رَحْلَهَا وَاسْتَوَى عَلَيْهَا ، وَلَوْ أَنِّي أَطَعْتُكُمْ حَيْثُ قَالَ مَا قَالَ دَخَلَ النَّارَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا ، وہ کسی کام کے سلسلے میں آپ سے مدد لینا چاہ رہا تھا ، عکرمہ کہتے ہیں : میرا خیال ہے وہ قتل کا کوئی معاملہ تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی چیز دی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے تمہارے ساتھ اچھا سلوک کر دیا ہے ؟ دیہاتی نے کہا: جی نہیں ! آپ نے ٹھیک نہیں کیا ، تو مسلمانوں میں سے بعض لوگ غصے میں آ گئے اور انہوں نے یہ ارادہ کیا کہ اُٹھ کر اس کی طرف جائیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ تم لوگ رک جاؤ ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور اپنے گھر گئے ، تو آپ نے دیہاتی کو گھر بلوایا اور اس سے فرمایا : تم ہمارے پاس آئے تھے ، تم نے ہم سے مانگا ، ہم نے تمہیں عطا کر دیا ، اور اس کے بارے میں تم نے ایک بات کی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے مزید کچھ دیا اور دریافت کیا : کیا میں نے تمہارے ساتھ ٹھیک سلوک کیا ہے ؟ اس دیہاتی نے کہا: جی ہاں ! اللہ تعالیٰ آپ کو اہل خانہ اور خاندان کی طرف سے جزائے خیر عطا کرے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : تم ہمارے پاس آئے تھے ، تم نے ہم سے مانگا ، ہم نے تمہیں دیا ، پھر اس کے بارے میں تم نے ایک بات کی ، میرے ساتھیوں کے من میں تمہارے لیے اُس حوالے سے کچھ الجھن ہے ، جب تم جاؤ گے ، تو ان کے درمیان یہ کہہ دینا کہ جو تم نے میرے سامنے کہا: ہے ، تاکہ اُن کے دل کی الجھن ختم ہو جائے ، اس نے کہا: ٹھیک ہے ۔
راوی کہتے ہیں : پھر وہ دیہاتی آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا ساتھی ہمارے پاس آیا ، اس نے ہم سے مانگا ، ہم نے اسے دیا ، اس نے ایک بات کی ، پھر ہم نے اسے بلایا اور اسے دیا ، پھر اس کا یہ کہنا ہے کہ یہ راضی ہو گیا ہے ، کیا ایسا ہی ہے ؟ اس دیہاتی نے کہا: جی ہاں ! اللہ تعالیٰ آپ کو اہل خانہ اور خاندان کی طرف سے جزائے خیر عطا کرے ۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری اور اس دیہاتی کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے ، جس کے پاس اونٹنی ہوتی ہے ، وہ اونٹنی اس شخص کی نافرمانی کرتی ہے ، لوگ اس کے پیچھے جاتے ہیں ، تو اس اونٹنی کے متنفر ہونے میں اضافہ ہی ہوتا ہے ، اونٹنی کا مالک کہتا ہے : تم لوگ میرے اور میری اونٹنی کے درمیان جگہ کو چھوڑ دو ، کیونکہ میں اس سے زیادہ واقف ہوں ، اور اس کے بارے میں زیادہ جانتا ہوں ، پھر اونٹنی کا مالک اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے ، اور اس کے لئے زمین سے کھانے کی چیز اٹھاتا ہے ، اور اسے بلاتا ہے ، یہاں تک کہ وہ آ جاتی ہے ، اور اس کی بات مان لیتی ہے ، پھر وہ اس پر پالان رکھتا ہے ، اور اس پر سوار ہو جاتا ہے ، تو اگر میں تمہاری کہی ہوئی ہر بات مان لوں ، تو ( ہو سکتا ہے ، وہ اپنی بات پر اصرار کرنے والا شخص ) جہنم میں چلا جائے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن حکم بن ابان ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14193
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2476)»