حدیث نمبر: 14192
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ يَأْخُذُ بِيَدِهِ فَيَنْزِعُ يَدَهُ مِنْ يَدِهِ حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ هُوَ الَّذِي يُرْسِلُهُ ، وَلَمْ يَكُنْ يَرَى رُكْبَتَيْهِ أَوْ رُكْبَتَهُ خَارِجًا عَنْ رُكْبَةِ جَلِيسِهِ ، وَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ يُصَافِحُهُ إِلَّا أَقْبَلَ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ ، ثُمَّ لَمْ يَصْرِفْهُ عَنْهُ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْ كَلَامِهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول تھا کہ جب کوئی شخص آپ کا ہاتھ پکڑتا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ہاتھ سے خود ہاتھ نہیں چھڑاتے تھے ، یہاں تک کہ دوسرا شخص خود آپ کا ہاتھ چھوڑ دیتا تھا ، اور نہ ہی کبھی آپ کو یوں دیکھا گیا کہ آپ نے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کے سامنے گھٹنے پھیلائے ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بھی شخص مصافحہ کرتا تھا ، آپ مکمل طور پر اس کی طرف متوجہ ہوتے تھے ، اور اس وقت تک اس سے منہ نہیں پھیرتے تھے ، جب تک وہ بات کر کے فارغ نہیں ہو جاتا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام طبرانی کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14192
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2473)»