حدیث نمبر: 14189
وَعَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ قَالَتْ : مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ خُلُقًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَقَدْ رَأَيْتُهُ وَقَدْ رَكِبَ بِي مِنْ خَيْبَرَ عَلَى عَجُزِ نَاقَتِهِ لَيْلًا ، فَجَعَلْتُ أَنْعَسُ ، فَضَرَبَ رَأْسِي مُؤَخِّرَةُ الرَّحْلِ فَمَسَّنِي بِيَدِهِ ، يَقُولُ : " يَا هَذِهِ مَهْلًا يَا بِنْتَ حُيَيٍّ مَهْلًا " . حَتَّى إِذَا جَاءَ الصَّهْبَاءَ قَالَ : " إِنِّي أَعْتَذِرُ إِلَيْكَ يَا صَفِيَّةُ مِمَّا صَنَعْتُ بِقَوْمِكِ ، إِنَّهُمْ قَالُوا لِي كَذَا ، وَقَالُوا لِي كَذَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ الرَّبِيعَ ابْنَ أَخِي صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوش اخلاق کوئی نہیں دیکھا ، مجھے آپ کے بارے میں یاد ہے ، خیبر میں رات کے وقت آپ نے مجھے اونٹ کے پچھلے حصے میں سوار کروایا ، میں اونگھنے لگی ، اور میرا سر پالان کے پچھلے حصے سے ٹکرانے لگا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ہاتھ کے ذریعے چھو کر یہ فرما دیتے تھے : اے حیی کی صاحبزادی ! سنبھل کے ، اے حیی کی صاحبزادی ! ذرا سنبھل کے ، یہاں تک کہ آپ صہباء تشریف لے آئے ، آپ نے فرمایا : اے صفیہ ! میں تمہارے سامنے اس حوالے سے وجہ بیان کرتا ہوں ، جو میں نے تمہاری قوم کے ساتھ سلوک کیا ، اُن لوگوں نے میرے بارے میں یہ کہا: تھا ، اور وہ کہا: تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ثقہ بیں ، البتہ سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے بھتیجے ربیع سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14189
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7119 و 7120)»