حدیث نمبر: 14162
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ سِيَابَةَ قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسِيرٍ لَهُ ، فَأَرَادَ أَنْ يَقْضِيَ حَاجَتَهُ ، فَأَمَرَ وَدْيَتَيْنِ فَانْضَمَّتِ إِحْدَاهُمَا إِلَى الْأُخْرَى ، ثُمَّ أَمَرَهُمَا فَرَجَعَتَا إِلَى مَنَابِتِهِمَا . ¤ وَجَاءَ بَعِيرٌ يَضْرِبُ بِجِرَانِهِ إِلَى الْأَرْضِ ، وَجَرْجَرَ حَتَّى ابْتَلَّ مَا حَوْلَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَتَدْرُونَ مَا يَقُولُ الْبَعِيرُ ؟ إِنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّ صَاحِبَهُ يُرِيدُ نَحْرَهُ " . فَبَعَثَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَوَاهِبُهُ أَنْتَ لِي ؟ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لِي مَالٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ . فَقَالَ : " اسْتَوْصِ بِهِ مَعْرُوفًا " . فَقَالَ : لَا جَرَمَ ، وَلَا أُكْرِمُ مَالًا لِي كَرَامَتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَأَتَى عَلَى قَبْرٍ يُعَذَّبُ صَاحِبُهُ فَقَالَ : " إِنَّهُ يُعَذَّبُ فِي غَيْرِ كَبِيرٍ " . فَأَمَرَ بِجَرِيدَةٍ فَوُضِعَتْ عَلَى قَبْرِهِ ، وَقَالَ : " عَسَى أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُ مَا دَامَتْ رَطْبَةً " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : ثُمَّ أَتَى عَلَى قَبْرَيْنِ . وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا یعلی بن سیابہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہا تھا ، آپ نے قضائے حاجت کرنے کا ارادہ کیا تو آپ نے کھجور کے دو چھوٹے درختوں کو حکم دیا ، تو ان میں سے ایک دوسرے کے ساتھ مل گیا ، پھر آپ نے ان دونوں کو حکم دیا ، تو وہ دونوں اپنے اُگنے کی جگہ واپس چلے گئے ۔ اسی طرح ایک اونٹ آیا اور اس نے اپنی گردن زمین پر رکھ دی ، وہ آوازیں نکالنے لگا اور رونے لگا ، یہاں تک کہ اس کے اردگرد کی جگہ تر ہو گئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم لوگ جانتے ہو کہ یہ اونٹ کیا کہہ رہا ہے ؟ اس کا یہ کہنا ہے کہ اس کا مالک اسے ذبح کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مالک کو پیغام بھیج کر بلوایا اور فرمایا : کیا تم یہ اونٹ مجھے ہبہ کرتے ہو ؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ہاں کوئی ایسا مال نہیں ہے ، جو میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر تم اس کے بارے میں بھلائی کی تلقین کو قبول کرو ، اس نے عرض کی : یہ ضروری ہے یا رسول اللہ ! کہ میں اس مال کا احترام کروں ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے ، آپ اس کے پاس تشریف لائے ، اس قبر والے فرد کو عذاب ہو رہا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے ( بظاہر ) کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شاخ کے بارے میں حکم دیا ، وہ اس کی قبر پر رکھ دی گئی ، تو آپ نے فرمایا : ہو سکتا ہے ، جب تک یہ تر رہے گی ( اس وقت تک ) اس شخص کے عذاب میں تخفیف ہو جائے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس تشریف لائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس روایت کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14162
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (172/4)»