حدیث نمبر: 14117
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ أَيْضًا قَالَ : كُنْتُ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ ، فَشَكَا أَصْحَابِي الْجُوعَ فَقَالُوا : يَا وَاثِلَةَ ، اذْهَبْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَطْعِمْ لَنَا . فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَصْحَابِي شَكَوُا الْجُوعَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَائِشَةَ : " هَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَيْءٍ ؟ " . قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا عِنْدِي إِلَّا فُتَاتُ خُبْزٍ . قَالَ : " فَأْتِنِي بِهِ " . فَجَاءَتْ بِجِرَابٍ ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِصَحْفَةٍ فَأَفْرَغَ الْخُبْزَ فِي الصَّحْفَةِ ، ثُمَّ جَعَلَ يُصْلِحُ الثَّرِيدَ بِيَدِهِ ، وَهُوَ يَرْبُو حَتَّى امْتَلَأَتِ الصَّحْفَةُ ، فَقَالَ : " يَا وَاثِلَةُ ، اذْهَبْ فَجِئْ بِعَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِي وَأَنْتَ عَاشِرُهُمْ " . فَذَهَبْتُ فَجِئْتُ بِعَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِي وَأَنَا عَاشِرُهُمْ ، فَقَالَ : " اجْلِسُوا وَخُذُوا بِاسْمِ اللَّهِ ، خُذُوا مِنْ حَوَالَيْهَا وَلَا تَأْخُذُوا مِنْ أَعْلَاهَا ; فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ مِنْ أَعْلَاهَا " . فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ، ثُمَّ قَامُوا وَفِي الصَّحْفَةِ مِثْلَ مَا كَانَ فِيهَا ، ثُمَّ جَعَلَ يُصْلِحُهَا بِيَدِهِ ، وَهِيَ تَرْبُو حَتَّى امْتَلَأَتْ . قَالَ : " يَا وَاثِلَةُ ، اذْهَبْ فَجِئْ بِعَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِكَ " . فَجِئْتُ بِعَشَرَةٍ فَقَالَ : " اجْلِسُوا " فَجَلَسُوا ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ قَامُوا فَقَالَ : " اذْهَبْ فَجِئْ بِعَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِكَ " . فَذَهَبْتُ فَجِئْتُ بِعَشَرَةٍ فَفَعَلُوا مِثْلَ ذَلِكَ . قَالَ : " هَلْ بَقِيَ مِنْ أَحَدٍ ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ عَشْرٌ . قَالَ : " اذْهَبْ فَجِئْ بِهِمْ " . فَذَهَبْتُ فَجِئْتُ بِهِمْ فَقَالَ : " اجْلِسُوا " . فَجَلَسُوا ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ قَامُوا ، وَبَقِيَ فِي الصَّحْفَةِ مِثْلُ مَا كَانَ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا وَاثِلَةُ اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى عَائِشَةَ " . - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا .
محمد محی الدین

سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اصحاب صفہ میں سے ایک تھا ، میرے ساتھیوں نے بھوک کی شکایت کی ، انہوں نے کہا: اے واثلہ ! تم اللہ کے رسول کے پاس جاؤ اور ہمارے لئے کھانے کے لئے کچھ لے کے آؤ ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ساتھیوں نے بھوک کی شکایت کی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے پاس صرف روٹی کے چند ٹکڑے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے پاس وہی لے آؤ ، وہ ایک تھیلا لے کر آئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ منگوایا ، آپ نے روٹیاں پیالے میں ڈالیں ، پھر آپ اپنے دست مبارک کے ذریعے ثرید بنانے لگے ، وہ کھانا بڑھنا شروع ہوا ، یہاں تک کہ وہ پیالہ بھر گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے واثلہ ! تم جاؤ اور میرے اصحاب میں سے دس افراد کو لے آؤ ، تم ان میں سے دسویں فرد ہو ، میں گیا اور میں اپنے ساتھیوں میں سے دس افراد کو لے آیا ، جن کے ساتھ میں دسواں فرد تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ بیٹھو اور تم لوگ اللہ کا نام لے کر کھانا شروع کرو ، اور تم اس کے اطراف سے کھانا اور اس کے اوپر والے حصے کی طرف سے نہ کھانا ، کیونکہ برکت اس کے اوپر والے حصے کی طرف نازل ہوتی ہے ، تو ان لوگوں نے کھانا شروع کیا ، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے ، اور پھر وہ اٹھ گئے ، جبکہ پیالے میں اتنا کھانا موجود تھا جتنا پہلے موجود تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پھر اپنے دست مبارک کے ذریعے اسے ٹھیک کرنے لگے ، یہاں تک کہ وہ بڑھنا شروع ہوا ، یہاں تک کہ وہ پیالہ بھر گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے واثلہ ! تم جاؤ اور اپنے ساتھیوں میں سے دس افراد کو لے آؤ ، تو میں دس افراد کو لے آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ بیٹھو ، وہ لوگ بیٹھے ، ان لوگوں نے کھانا کھایا ، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے اور کھڑے ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جاؤ اور اپنے ساتھیوں میں سے دس افراد کو میرے پاس لے آؤ ، میں پھر گیا ، میں دس افراد کو لے آیا ، انہوں نے بھی ایسا ہی کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا کوئی باقی رہ گیا ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ، دس افراد رہ گئے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جاؤ اور انہیں لے آؤ ، میں گیا اور انہیں لے آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ بیٹھو ، وہ لوگ بیٹھ گئے ، انہوں نے کھانا شروع کیا ، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے پھر وہ اٹھ کھڑے ہوئے ، تو پیالے میں اتنا ہی کھانا موجود تھا ، جتنا پہلے تھا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اے واثلہ ! اسے عائشہ کے پاس لے جاؤ ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14117
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (86/22)»