مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ شِفَاءِ السِّلْعَةِ . باب: ’’ سلعہ “ ( نامی پھوڑے ) والی بیماری سے شفاء دینا
عَنْ مَخْلَدِ بْنِ عَقَبَةَ بْنِ شُرَحْبِيلٍ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبِكَفِّي سِلْعَةٌ فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، هَذِهِ السِّلْعَةُ قَدْ أَوَرَمَتْنِي تَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ قَائِمِ السَّيْفِ أَنْ أَقْبِضَ عَلَيْهِ وَعَنْ عِنَانِ الدَّابَّةِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ادْنُ مِنِّي " . فَدَنَوْتُ فَفَتَحْتُهَا ، فَنَفَثَ فِي كَفِّي ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى السِّلْعَةِ ، فَمَا زَالَ يَطْحَنُهَا حَتَّى رَفَعَ عَنْهَا وَمَا أَرَى أَثَرَهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَمَخْلَدٌ وَمَنْ فَوْقَهُ لَمْ أَعْرِفْهُمْ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤مخلد بن عقبہ بن شرحبیل ، اپنے دادا عبدالرحمن کے حوالے سے ، اُن کے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ” میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میری ہتھیلی پر ” سلعہ“ ( نامی پھوڑا ) نکلا ہوا تھا ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! اس ” سلعہ “ نے مجھے ورم آلود کر دیا ہے ، اور یہ میرے اور تلوار کے دستے کے درمیان رکاوٹ بن گیا ہے ، میں تلوار ہاتھ میں لے سکوں اور جانور کی لگام پکڑنے کے درمیان رکاوٹ بن گیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے قریب آ جاؤ ! میں آپ کے قریب آیا ، تو آپ نے فرمایا : اپنا ہاتھ کھولو ! میں نے اسے کھولا ، تو آپ نے فرمایا : اسے مٹھی میں لو ( یا اسے بند کرو ! ) تو میں نے ایسا کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے قریب آ جاؤ ! میں قریب آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھولا ، پھر آپ نے میری ہتھیلی پر دم کیا ، پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس پھوڑے پر رکھا اور آپ مسلسل اُسے دباتے رہے ، یہاں تک کہ جب آپ نے اپنا ہاتھ اس سے اٹھایا ، تو اس پھوڑے کا نشان مجھے نظر نہیں آیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، مخلد اور اس سے اوپر کے راویوں سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔