مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ رَدِّهِ الْبَصَرَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: نبی اکرم ﷺ کا بینائی واپس لوٹا دینا
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ سَلَامَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أُمِّهِ أَنَّ خَالَهَا حَبِيبُ بْنُ فُرَيْكًا حَدَّثَهَا أَنَّ أَبَاهَا خَرَجَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَيْنَاهُ مُبْيَضَّتَانِ لَا يُبْصِرُ بِهِمَا شَيْئًا ، فَسَأَلَهُ مَا أَصَابَهُ قَالَ : كُنْتُ أُمَرِّي جِمَالِي ، فَوَقَعَتْ رِجْلِي عَلَى بَيْضِ حَيَّةٍ فَأُصِبْتُ بِبَصَرِي ، فَنَفَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي عَيْنَيْهِ فَأَبْصَرَ ، فَرَأَيْتُهُ يُدْخِلُ الْخَيْطَ فِي الْإِبْرَةِ وَإِنَّهُ لَابْنُ ثَمَانِينَ سَنَةً وَإِنَّ عَيْنَيْهِ لَمُبْيَضَّتَانِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ رِفَاعَةَ فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ مِنْ طَرِيقِ الْبَزَّارِ وَالطَّبَرَانِيِّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤سلامان سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب اپنی والدہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : اُن کے ماموں حبیب بن فریق نے انہیں یہ بات بتائی ہے : ” اس خاتون کے والد ان صاحب کو ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے ، ان صاحب کی دونوں آنکھیں سفید تھیں اور وہ کچھ نہیں دیکھ سکتے تھے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بیماری کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے بتایا : کہ میں اپنے اونٹ کو لے جا رہا تھا ، میرا پاؤں سانپ کے انڈے پر آ گیا ، جس کی وجہ سے میری بینائی ختم ہو گئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی دونوں آنکھوں میں پھونک ماری ، تو ان کی بینائی واپس آ گئی ، راوی کہتے ہیں : میں نے انہیں دیکھا ہے کہ وہ سوئی میں دھاگہ ڈال لیا کرتے تھے ، حالانکہ اُس وقت اُن کی عمر اسی سال تھی ، اور ان کی دونوں آنکھیں سفید ہی تھیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس سے پہلے غزوہ بدر سے متعلق باب میں ، سیدنا رفاعہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث گزر چکی ہے ، جو امام بزار کے حوالے سے اور امام طبرانی کے حوالے سے مذکور ہے ۔