حدیث نمبر: 14087
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى قَوْمٍ قَدْ صَادُوا ظَبْيَةً ، فَشَدُّوهَا إِلَى عَمُودِ فُسْطَاطٍ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي وَضَعْتُ وَلَدَيْنِ خَشْفَيْنِ فَاسْتَأْذِنْ لِي أَنْ أُرْضِعَهُمَا ثُمَّ أَعُودُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَلُّوا عَنْهَا حَتَّى تَأْتِيَ خَشْفَيْهَا فَتُرْضِعُهُمَا وَتَأْتِي إِلَيْكُمَا " . قَالُوا : وَمَنْ لَنَا بِذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَنَا " . فَأَطْلَقُوهَا فَذَهَبَتْ فَأَرْضَعَتْ ثُمَّ رَجَعَتْ إِلَيْهِمْ فَأَوْثَقُوهَا . قَالَ : " تَبِيعُوهَا " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هِيَ لَكَ ، فَخَلُّوا عَنْهَا فَأَطْلَقُوهَا فَذَهَبَتْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ صَالِحٌ الْمُرِّيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے ، جنہوں نے ایک ہرنی کو شکار کیا تھا اور اسے خیمے کی لکڑی کے ساتھ باندھا ہوا تھا ، اس ہرنی نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے بچوں کو جنم دیا ہے ، میرے دو چھوٹے بچے ہیں ، آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں انہیں دودھ پلا آؤں ، پھر میں واپس آ جاؤں گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے چھوڑ دو ! تاکہ یہ اپنے بچوں کے پاس جا کے انہیں دودھ پلا آئے ، پھر یہ تمہارے پاس آ جائے گی ، ان لوگوں نے عرض کی : يا رسول اللہ اس کا ذمہ دار کون ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں ، اُن لوگوں نے اسے چھوڑ دیا وہ چلی گئی ، اس نے دودھ پلایا ، پھر وہ ان لوگوں کے پاس واپس آ گئی ، اُن لوگوں نے پھر اسے باندھ دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے فروخت کرو گے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ آپ کی ہوئی ، پھر ان لوگوں نے اسے چھوڑ دیا اور وہ چلی گئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح مری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14087
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف