مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ شَهَادَةِ الضَّبِّ بِنُبُوَّتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: گوہ کا نبی اکرم ﷺ کی نبوت کے بارے میں گواہی دینا
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِحَدِيثِ الضَّبِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ فِي مَحْفِلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، إِذْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ قَدْ صَادَ ضَبًّا وَجَعَلَهُ فِي كُمِّهِ ، فَذَهَبَ بِهِ إِلَى رَحْلِهِ فَرَأَى جَمَاعَةً فَقَالَ : عَلَى مَنْ هَذِهِ الْجَمَاعَةُ فَقَالُوا : عَلَى هَذَا الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ النَّبِيُّ ، فَشَقَّ النَّاسَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ مَا اشْتَمَلَتِ النِّسَاءُ عَلَى ذِي لَهْجَةٍ أَكْذَبَ مِنْكَ وَأَنْقَصَ ، وَلَوْلَا أَنْ تُسَمِّيَنِي الْعَرَبُ عَجُولًا لَعَجَّلْتُ عَلَيْكَ فَقَتَلْتُكَ ، فَسَرَرْتُ بِقَتْلِكَ النَّاسَ أَجْمَعِينَ . فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَعْنِي أَقْتُلْهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْحَلِيمَ كَادَ يَكُونُ نَبِيًّا " . ثُمَّ أَقْبَلَ الْأَعْرَابِيُّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : وَاللَّاتِ وَالْعُزَّى لَا آمَنْتُ بِكَ . وَقَدْ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَعْرَابِيُّ مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ قُلْتَ مَا قُلْتَ ، وَقُلْتَ غَيْرَ الْحَقِّ وَلَمْ تُكَرِّمْ مَجْلِسِي ؟ " . قَالَ : وَتُكَلِّمُنِي أَيْضًا - اسْتِخْفَافًا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاللَّاتِ وَالْعُزَّى لَا آمَنْتُ بِكَ حَتَّى يُؤْمِنَ بِكَ هَذَا الضَّبُّ . فَأَخْرَجَ الضَّبَّ مِنْ كُمِّهِ ، فَطَرَحَهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : إِنْ آمَنَ بِكَ هَذَا الضَّبُّ آمَنْتُ بِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا ضَبُّ " . فَكَلَّمَهُ الضَّبُّ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ يَفْهَمُهُ الْقَوْمُ جَمِيعًا : لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ يَا رَسُولَ رَبِّ الْعَالَمِينَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ تَعْبُدُ ؟ " . قَالَ : الَّذِي فِي السَّمَاءِ عَرْشُهُ ، وَفِي الْأَرْضِ سُلْطَانُهُ ، وَفِي الْبَحْرِ سَبِيلُهُ ، وَفِي الْجَنَّةِ رَحْمَتُهُ ، وَفِي النَّارِ عَذَابُهُ . قَالَ : " فَمَنْ أَنَا يَا ضَبُّ ؟ " . قَالَ : أَنْتَ رَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، وَخَاتَمُ النَّبِيِّينَ ، قَدْ أَفْلَحَ مَنْ صَدَّقَكَ ، وَقَدْ خَابَ مَنْ كَذَّبَكَ . فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا ، وَاللَّهِ لَقَدْ أَتَيْتُكَ وَمَا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَحَدٌ هُوَ أَبْغَضُ إِلَيَّ مِنْكَ ، وَوَاللَّهِ لَأَنْتَ السَّاعَةَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَمِنْ وَلَدِي ، فَقَدْ آمَنْتُ بِكَ شَعْرِي وَبَشَرِي وَدَاخِلِي وَخَارِجِي وَسِرِّي وَعَلَانِيَتِي . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَاكَ الدِّينَ الَّذِي يَعْلُو وَلَا يُعْلَى ، لَا يَقْبَلُهُ اللَّهُ تَعَالَى إِلَّا بِصَلَاةٍ ، وَلَا تُقْبَلُ الصَّلَاةُ إِلَّا بِقُرْآنٍ " . فَعَلَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ( الْحَمْدُ ) وَ ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ) فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا سَمِعْتُ فِي الْبَسِيطِ ، وَلَا فِي الرَّجَزِ أَحْسَنَ مِنْ هَذَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ هَذَا كَلَامُ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَلَيْسَ بِشِعْرٍ ، وَإِذَا قَرَأْتَ ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ) مَرَّةً فَكَأَنَّمَا قَرَأْتَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ، وَإِذَا قَرَأْتَ ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ) مَرَّتَيْنِ فَكَأَنَّمَا قَرَأْتَ ثُلُثَيِ الْقُرْآنِ ، وَإِذَا قَرَأْتَ ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَكَأَنَّمَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ " . فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ : نِعْمَ الْإِلَهُ فَإِنَّ إِلَهَنَا يَقْبَلُ الْيَسِيرَ وَيُعْطِي الْجَزِيلَ . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَعْطُوا الْأَعْرَابِيَّ " . فَأَعْطَوْهُ حَتَّى أَبْظَرُوهُ . فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُعْطِيَهُ نَاقَةً أَتَقَرَّبُ بِهَا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ دُونَ الْبُخْتِيِّ وَفَوْقَ الْأَعْرَابِيِّ ، وَهِيَ عُشَرَاءُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَدْ وَصَفْتَ مَا تُعْطِي وَأَصِفُ لَكَ مَا يُعْطِيكَ اللَّهُ تَعَالَى جَزَاءً " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " لَكَ نَاقَةٌ مِنْ دُرَّةٍ جَوْفَاءَ ، قَوَائِمُهَا مِنْ زُمُرُّدٍ أَخْضَرَ ، وَعُنُقُهَا مِنْ زَبَرْجَدٍ أَصْفَرَ ، عَلَيْهَا هَوْدَجٌ ، وَعَلَى الْهَوْدَجِ السُّنْدُسُ وَالْإِسْتَبْرَقُ ، تَمُرُّ بِكَ عَلَى الصِّرَاطِ كَالْبَرْقِ الْخَاطِفِ " . فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَلَقَّاهُ أَلْفُ أَعْرَابِيٍّ عَلَى أَلْفِ دَابَّةٍ بِأَلْفِ رُمْحٍ وَأَلْفِ سَيْفٍ . فَقَالَ لَهُمْ : أَيْنَ تُرِيدُونَ ؟ فَقَالُوا : نُقَاتِلُ هَذَا الَّذِي يَكْذِبُ وَيَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ . فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ : إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَقَالُوا لَهُ : صَبَوْتَ ؟ فَقَالَ لَهُمْ : مَا صَبَوْتُ . وَحَدَّثَهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ فَقَالُوا بِأَجْمَعِهِمْ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ . فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَلَقَّاهُمْ فِي رِدَاءٍ ، فَنَزَلُوا ، عَنْ رِكَابِهِمْ يُقَبِّلُونَ مَا رَأَوْا مِنْهُ وَهُمْ يَقُولُونَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالُوا : مُرْنَا بِأَمْرِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " تَدْخُلُونَ تَحْتَ رَايَةِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ " . قَالَ : فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْعَرَبِ آمَنَ مِنْهُمْ أَلْفٌ جَمِيعًا إِلَّا بَنُو سُلَيْمٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْوَلِيدِ الْبَصْرِيِّ قَالَ الْبَيْهَقِيُّ : وَالْحَمْلُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَلَيْهِ . قُلْتُ : ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ گوہ کے بارے میں واقعہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کی محفل کے درمیان موجود تھے ، اسی دوران بنو سلیم سے تعلق رکھنے والا ایک دیہاتی شخص آیا ، جس نے ایک گوہ کو شکار کیا تھا ، اس نے وہ گوہ اپنی آستین میں رکھی ہوئی تھی ، اور وہ اسے لے کر اپنی رہائشی جگہ کی طرف جا رہا تھا ، اس نے درمیان میں ، اس نے کچھ لوگوں کو دیکھا تو دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں ؟ تو لوگوں نے بتایا کہ یہ وہ صاحب ہیں ، جو یہ کہتے ہیں کہ وہ نبی ہیں ، وہ شخص لوگوں کو چیرتا ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) خواتین نے کسی ایسے شخص پر اشتمال نہیں کیا ( یعنی کسی ایسے شخص کو جنم نہیں دیا ) جو آپ سے زیادہ جھوٹا اور آپ سے زیادہ ناقص ہو ، اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ عرب مجھے جلدباز کہیں گے ، تو میں نے آپ کے بارے میں جلدبازی کرنی تھی اور آپ کو قتل کر دینا تھا اور آپ کو قتل کر کے لوگوں کو خوش کر دینا تھا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اسے قتل کر دوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم یہ بات نہیں جانتے ہو ؟ کہ بردبار شخص نبی ہونے کے قریب ہوتا ہے ، پھر وہ دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف متوجہ ہوا اور بولا: لات اور عزیٰ کی قسم ہے ، میں آپ پر ایمان نہیں لاؤں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : اسے دیہاتی ! تم نے جو بات کہی ہے ، اس کی وجہ کیا ہے ؟ تم نے غلط بات کی ہے ، اور تم نے میری محفل کا احترام بھی نہیں کیا ، اُس دیہاتی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تخفیف کرتے ہوئے یہ کہا: آپ بھی میرے ساتھ اس طرح بات کر لیں ، لات اور عزیٰ کی قسم ہے ، میں آپ پر اس وقت تک ایمان نہیں لاؤں گا ، جب تک یہ گوہ آپ پر ایمان نہیں لائے گی ، پھر اس نے اپنی گوہ کو اپنی آستین میں سے نکالا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کو رکھ دیا اور بولا: اگر یہ گوہ آپ پر ایمان لے آئی ، تو میں بھی آپ پر ایمان لے آؤں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے گوہ ! تو گوہ نے آپ سے واضح عربی زبان میں کلام کیا ، جسے تمام حاضرین سمجھ رہے تھے ۔ اس نے کہا: اے تمام جہانوں کے پروردگار کے رسول ! میں حاضر ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم کس کی عبادت کرتی ہو ؟ اس نے عرض کی : جس کا عرش آسمان میں ہے ، اور جس کی بادشاہی زمین میں ہے ، اور جس کا بنایا ہوا راستہ سمندر میں ہے ، اور جنت میں جس کی رحمت ہے ، اور جہنم میں جس کا عذاب ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے گوہ ! میں کون ہوں ؟ اس نے عرض کی : آپ تمام جہانوں کے پروردگار کے بھیجے ہوئے رسول ہیں اور انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والے ہیں ، وہ شخص کامیاب ہو گیا ، جس نے آپ کی تصدیق کی اور وہ شخص رُسوا ہو گیا ، جس نے آپ کو جھٹلایا ۔ تو اُس دیہاتی نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں ، جب میں آپ کے پاس آیا تھا ، تو اللہ کی قسم ! اس وقت روئے زمین پر کوئی بھی میرے نزدیک آپ سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں تھا ، اور اللہ کی قسم ! اس وقت میرا یہ عالم ہے کہ آپ میرے نزدیک میری جان اور میری اولاد سے زیادہ محبوب ہیں ، میرے بال ، میری جلد ، میرا اندرونی حصہ ، میرا بیرونی حصہ ، میرا پوشیدہ ، میرا علانیہ ، آپ پر ایمان لاتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے تمہیں اس دین کی ہدایت نصیب کی ، جو سربلند ہو گا ، سرنگوں نہیں ہو گا ، اور اللہ تعالیٰ اسے صرف نماز کے ہمراہ قبول کرتا ہے ، اور نماز ، قرآن کے بغیر قبول نہیں ہوتی ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سورت فاتحہ اور سورت اخلاص کی تعلیم دی ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے بسیط ، یا رجز میں کوئی ایسا کلام نہیں سنا ، جو اس سے زیادہ عمدہ ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ تمام جہانوں کے پروردگار کا کلام ہے ، یہ شاعری نہیں ہے ، جب تم سورت اخلاص ایک مرتبہ پڑھ لو گے ، تو گویا تم نے ایک تہائی قرآن پڑھ لیا ، اور جب تم سورت اخلاص دو مرتبہ پڑھ لو گے ، تو گویا تم نے دو تہائی قرآن پڑھ لیا ، اور جب تم سورت اخلاص تین مرتبہ پڑھ لو گے ، تو گویا تم نے پورا قرآن پڑھ لیا ۔ “ تو دیہاتی نے کہا: یہ تو بہت اچھا معبود ہے ، جو تھوڑی سی چیز کو قبول کر لیتا ہے ، اور زیادہ اجر و ثواب عطا کرتا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دیہاتی کو کچھ دو ! تو لوگوں نے اسے دیا ، یہاں تک کہ بہت زیادہ دیا ، سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں یہ چاہتا ہوں کہ میں اسے ایک اونٹنی دوں ، اور میں اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قرب حاصل کرنا چاہتا ہوں ، وہ اونٹنی بختی اونٹ سے کم ہو گی ، اور اعرابی اونٹ سے زیادہ ہو گی ، وہ دس ماہ کی حاملہ ہو گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جو دینے لگے ہو ، تم نے اس کی صفت بیان کر دی ہے ، اب میں تمہارے سامنے اس کی صفت بیان کروں گا ، جو اس کی جزا میں تمہیں اللہ تعالیٰ عطا کرے گا ، سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ٹھیک ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں ایسی اونٹنی ملے گی ، جو خول والے موتی سے بنی ہوئی ہو گی ، اس کے پاؤں سبز زبرجد سے بنے ہوئے ہوں گے ، اس کی گردن زرد زبرجد کی ہو گی ، اس پر ہودج موجود ہو گا ، اس کا ہودج ، سندس اور استبرق ہو گا ، اور وہ اونٹنی تمہیں لے کر پل صراط سے یوں گزرے گی ، جیسے بجلی چمکتی ہے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : وہ دیہاتی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گیا ، تو اس کی ملاقات ایک ہزار دیہاتیوں سے ہوئی ، جو ایک ہزار سواریوں پر سوار تھے ، اُن کے پاس ایک ہزار نیزے تھے اور ایک ہزار تلواریں تھیں ، اُس دیہاتی نے ان لوگوں سے کہا: تم لوگ کیا ارادہ رکھتے ہو ؟ انہوں نے بتایا : ہم اُن صاحب سے جنگ کرنا چاہتے ہیں ، جو جھوٹ بولتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ وہ نبی ہیں ، تو اس دیہاتی نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، ان دیہاتیوں نے اس سے کہا: کیا تم بے دین ہو گئے ہو ؟ اس نے ان سے کہا: میں بے دین نہیں ہوا ہوں ، پھر اُس نے پورا واقعہ ان لوگوں کو سنایا ، تو ان سب لوگوں نے یہ کہا: اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں اطلاع ملی ، تو آپ نے ان لوگوں سے ملاقات کی ، آپ نے چادر اوڑھی ہوئی تھی ، وہ لوگ اپنی سواریوں سے اُترے اور انہوں نے اس کو بوسہ دینا شروع کیا ، جو وہ آپ سے دیکھ رہے تھے اور وہ یہ کہہ رہے تھے : اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، پھر انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ ہمیں حکم دیجئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ خالد بن ولید کے جھنڈے کے نیچے داخل ہو جاؤ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : عربوں میں کوئی ایسا قبیلہ نہیں ہے ، جس کے ایک ہزار افراد ، ایک ساتھ مسلمان ہوئے ہوں ، صرف بنو سلیم کا معاملہ مختلف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں اپنے استاد محمد بن علی بن ولید بصری کے حوالے سے نقل کی ہے ، امام بیہقی کہتے ہیں : اس روایت کا سارا وزن اس راوی پر ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔