مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ إِخْبَارِ الذِّئْبِ بِنُبُوَّتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: بھیڑیے کا نبی اکرم ﷺ کی نبوت کی اطلاع دینا
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : جَاءَ ذِئْبٌ إِلَى رَاعِي غَنَمٍ فَأَخَذَ مِنْهَا شَاةً ، فَطَلَبَهُ الرَّاعِي حَتَّى انْتَزَعَهَا مِنْهُ . قَالَ : فَصَعِدَ الذِّئْبُ عَلَى تَلٍّ فَأَقْعَى وَاسْتَزْفَرَ وَقَالَ : عَمَدْتَ إِلَى رِزْقٍ رَزَقَنِيهِ اللَّهُ فَانْتَزَعْتَهُ مِنِّي ؟ فَقَالَ الرَّاعِي : بِاللَّهِ إِنْ رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ ذِئْبًا يَتَكَلَّمُ ! ! قَالَ الذِّئْبُ : أَعْجَبُ مِنْ هَذَا رَجُلٌ فِي النَّخَلَاتِ بَيْنَ الْحَرَمَيْنِ يُخْبِرُكُمْ بِمَا مَضَى وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ . وَكَانَ الرَّجُلُ يَهُودِيًّا فَجَاءَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَخَبَّرَهُ وَصَدَّقَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهَا أَمَارَاتٌ مِنْ أَمَارَاتٍ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ ، قَدْ أَوْشَكَ الرَّجُلُ أَنْ يَخْرُجَ فَلَا يَرْجِعُ حَتَّى تُحَدِّثَهُ نَعْلَاهُ وَسَوْطُهُ مَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ بَعْدَهُ " . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک بھیڑیا بکریوں کے چرواہے کے پاس آیا ، اور اس نے اُس کی بکریوں میں سے ایک بکری لے لی ، چرواہا اس کے پیچھے گیا ، اس نے اس بھیڑیے سے اس بکری کو چھٹرا لیا ، راوی کہتے ہیں : تو وہ بھیڑیا ایک ٹیلے پر چڑھا ، اُس نے اپنی دم دونوں ٹانگوں کے درمیان کی اور بولا: تم ایک ایسے رزق کی طرف آئے ، جسے اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا تھا ، اور تم نے اس کو مجھ سے چھین لیا ، تو اس چرواہے نے کہا: اللہ کی قسم ! میں نے آج کے دن کی طرح کی صورت حال کبھی نہیں دیکھی کہ ایک بھیڑیا بات چیت کر رہا ہے ، اُس بھیڑیے نے کہا: اس سے بھی زیادہ حیران کن وہ صاحب ہیں ، جو دو طرف پتھریلی زمین کے درمیان موجود کھجوروں کے درختوں کے درمیان رہتے ہیں ، اور وہ گزرے ہوئے زمانے کے بارے میں ، اور تمہارے بعد جو کچھ ہو گا ، اس کے بارے میں تمہیں بتاتے ہیں ، وہ شخص یہودی تھا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور اس نے اسلام قبول کر لیا ، اور آپ کو اس بارے میں بتایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات کی تصدیق کی اور آپ نے یہ بات ارشاد فرمائی : ” قیامت سے پہلے آنے والی نشانیوں میں ایک نشانی یہ بھی ہے ، عنقریب ایسا ہو گا کہ کوئی شخص جائے گا اور جب وہ واپس آئے گا ، تو اُس کا جوتا ، یا اُس کا کوڑا بتائیں گے کہ اُس کے بعد اس کے گھر والوں نے کیا کیا ؟ “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت صحیح میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔