مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ إِخْبَارِ الذِّئْبِ بِنُبُوَّتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: بھیڑیے کا نبی اکرم ﷺ کی نبوت کی اطلاع دینا
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : عَدَا الذِّئْبِ عَلَى شَاةٍ فَأَخَذَهَا ، فَطَلَبَهَا الرَّاعِي فَانْتَزَعَهَا مِنْهُ ، فَأَقْعَى الذِّئْبُ عَلَى ذَنَبِهِ فَقَالَ : أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ تَنْزِعُ مِنِّي رِزْقًا سَاقَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيَّ ؟ فَقَالَ : يَا عَجَبًا ذِئْبٌ مُقْعَى عَلَى ذَنَبِهِ يُكَلِّمُنِي بِكَلَامِ الْإِنْسِ ! فَقَالَ الذِّئْبُ : أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَعْجَبَ مِنْ ذَلِكَ ! مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَثْرِبَ يُخْبِرُ النَّاسَ بِأَنْبَاءِ مَا قَدْ سَبَقَ . قَالَ : فَأَقْبَلَ الرَّاعِي يَسُوقُ غَنَمَهُ حَتَّى دَخَلَ الْمَدِينَةَ فَزَوَى إِلَى زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهَا ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنُودِيَ : الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ : " أَخْبِرْهُمْ " . فَأَخْبَرَهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَدَقَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُكَلِّمَ السِّبَاعُ الْإِنْسَ ، وَيُكَلِّمَ الرَّجُلَ عَذَبَةُ سَوْطِهِ وَشِرَاكَ نَعْلِهِ ، وَيُخْبِرُ فَخِذُهُ مَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ بَعْدَهُ " . قُلْتُ : عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ طَرَفٌ مِنْ آخِرِهِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک بھیڑیے نے ایک بکری پر حملہ کر کے اُسے پکڑ لیا ، چرواہا اس کے پیچھے گیا ، اس نے اس بھیڑیے سے اس بکری کو چھٹرا لیا ، تو وہ بھیٹریا اپنی دم کے بل اقصاء کے طور پر بیٹھ گیا اور اس نے چرواہے سے کہا: کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں ہو ؟ تم نے مجھ سے وہ رزق چھین لیا ، جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا تھا ، اُس شخص نے کہا: یہ کیسی حیران کن بات ہے ، ایک بھیڑیا جو اپنی دم کے بل اقعاء کے طور پر بیٹھا ہے ، وہ میرے ساتھ انسانوں کی طرح کلام کر رہا ہے ، تو اس بھیڑیے نے کہا: کیا میں تمہیں اس سے زیادہ حیران کن بات نہ بتاؤں ؟ یثرب میں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں ، جو لوگوں کو پہلے زمانے کی خبریں دیتے ہیں ، راوی کہتے ہیں : پھر وہ چرواہا اپنی بکریوں کو ہانکتے ہوئے آیا اور مدینہ منورہ میں داخل ہوا ، اس نے مدینہ منورہ کے ایک کنارے پر انہیں اکٹھا کیا ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور آپ کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ، اعلان کیا گیا کہ سب لوگ اکٹھے ہو جائیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ نے اُس دیہاتی سے کہا: تم ان لوگوں کو اس بارے میں بتاؤ ، اس نے ان لوگوں کو بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس نے سچ کہا: ہے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے ، قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی ، جب تک جانور انسانوں کے ساتھ بات چیت نہیں کریں گے ، اور آدمی کے ساتھ اس کی چھڑی کا کونا اور اس کے جوتے کا تسمہ بھی کلام کریں گے ، اور اس کا زانوں اُسے بتائے گا کہ اُس کے بعد اس کی بیوی نے کیا کیا ؟ “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا آخری حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔