حدیث نمبر: 14042
وَعَنْ عَبَّادِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ كَانَ يَخْدِمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَاطَبَهُ يَهُودِيٌّ فَسَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ مَنْكِبَيْهِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَكْرَهُ أَنْ يُرَى الْخَاتَمُ فَسَوَّيْتُهُ عَلَيْهِ فَقَالَ : " مَنْ فَعَلَ هَذَا ؟ " . قُلْتُ : أَنَا قَالَ : " تَحَوُّلْ إِلَيَّ " . فَجَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي فَأَمَرَّهَا عَلَى وَجْهِي وَصَدْرِي وَقَالَ : " إِذَا أَتَانَا شَيْءٌ فَائْتِنِي " . فَأَتَيْتُهُ فَأَمَرَ لِي بِجَذَعَةٍ وَكَانَ الْخَاتَمُ عَلَى طَرَفِ كَتِفِهِ الْأَيْسَرِ كَأَنَّهُ رُكْبَةُ عَنْزٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عباد بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتے تھے ، ایک مرتبہ ایک یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات چیت کر رہا تھا ، اس دوران آپ کے کندھے سے چادر گر گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پسند نہیں تھی کہ آپ کی مہر نبوت دکھائی دے ، میں نے آپ کی چادر درست کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : ایسا کس نے کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : میں نے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے سامنے آؤ ! تو میں آپ کے سامنے آ کے بیٹھ گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے سر پر رکھا اور اسے میرے چہرے اور سینے تک پھیرا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : جب ہمارے پاس کوئی چیز آئے گی ، تو تم میرے پاس آنا ، جب میں آپ کے پاس آیا ، تو آپ نے مجھے ایک جذعہ ( چار سال کا ہو کر پانچویں سال میں داخل ہونے والا اونٹ ) دینے کا حکم دیا ، وہ مہر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں کندھے کی طرف تھی ، یوں لگتا تھا ، جیسے وہ کسی بکری کے بچہ کا گھٹنا ہو ( یعنی وہ چند بال تھے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14042
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف