حدیث نمبر: 14030
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ سَلِيطٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْهِجْرَةِ مَعَهُ أَبُو بَكْرٍ رِضَى اللَّهُ عَنْهُ وَعَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ وَابْنُ أُرَيْقِطٍ يَدُلُّهُمْ عَلَى الطَّرِيقِ فَمَرَّ بِأُمِّ مَعْبَدٍ الْخُزَاعِيَّةِ وَهِيَ لَا تَعْرِفُهُ فَقَالَ لَهَا : " يَا أُمَّ مَعْبَدٍ هَلْ عِنْدَكِ مِنْ لَبَنٍ ؟ " . قَالَتْ : وَاللَّهِ إِنَّ الْغَنَمَ عَازِبَةٌ . قَالَ : " فَمَا هَذِهِ الشَّاةُ الَّتِي أَرَاهَا فِي كِفَاءِ الْبَيْتِ ؟ " . قَالَتْ : شَاةٌ خَلَّفَهَا الْجَهْدُ عَنِ الْغَنَمِ . قَالَ : " أَتَأْذَنِينَ فِي حِلَابِهَا ؟ " . قَالَتْ : وَاللَّهِ مَا ضَرَبَهَا مِنْ فَحْلٍ قَطُّ وَشَأْنَكَ بِهَا . فَمَسَحَ ظَهْرَهَا وَضَرْعَهَا ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ يُرْبِضُ الرَّهْطَ ، فَحَلَبَ فِيهِ ، فَمَلَأَهُ فَسَقَى أَصْحَابَهُ بِهِ عَلَلًا بَعْدَ نَهْلٍ ، ثُمَّ حَلَبَ فِيهِ أُخْرَى فَغَادَرَهُ عِنْدَهَا وَارْتَحَلَ ، فَلَمَّا جَاءَ زَوْجُهَا عِنْدَ الْمَسَاءِ قَالَ لَهَا : يَا أُمَّ مَعْبَدٍ مَا هَذَا اللَّبَنُ وَلَا حَلُوبَةَ فِي الْبَيْتِ وَالْغَنَمُ عَازِبٌ ؟ قَالَتْ : لَا . وَاللَّهِ إِلَّا أَنَّهُ مَرَّ بِنَا رَجُلٌ ظَاهِرُ الْوَضَاءِ مَلِيحُ الْوَجْهِ ، فِي أَشْفَارِهِ وَطَفٌ ، وَفِي عَيْنَيْهِ دَعَجٌ ، وَفِي صَوْتِهِ صَهَلٌ ، غُصْنٌ بَيْنَ غُصْنَيْنِ لَا تَشْنَاهُ مِنْ طُولٍ ، وَلَا تَقْتَحِمُهُ عَيْنٌ مِنْ قِصَرٍ ، لَمْ تَعْبَهْ ثَجْلَةٌ ، وَلَمْ تَزْرِ بِهِ صَعْلَةٌ ، كَأَنَّ عُنُقَهُ إِبْرِيقُ فِضَّةٍ ، إِذَا نَظَرْتَهُ عَلَاهُ الْبَهَاءُ ، وَإِذَا صَمَتَ فَعَلَيْهِ الْوَقَارُ ، كَلَامُهُ كَخَرَزِ النَّظْمِ ، أَزْيَنُ أَصْحَابِهِ مَنْظَرًا ، وَأَحْسَنُهُمْ وَجْهًا ، مَحْشُودٌ غَيْرُ مُفَنَّدٍ ، لَهُ أَصْحَابٌ يَحُفُّونَ بِهِ ، إِذَا أَمَرَ تَبَادَرُوا أَمْرَهُ ، وَإِذَا نَهَى انْتَهَوْا عِنْدَ نَهْيِهِ . فَقَالَ : هَذَا صَاحِبُ قُرَيْشٍ وَلَوْ رَأَيْتُهُ لَاتَّبَعْتُهُ ، وَلَأُجْهِدَنَّ أَنْ أَفْعَلَ ، وَلَمْ يَعْلَمُوا بِمَكَّةَ أَيْنَ تَوَجَّهَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى سَمِعُوا هَاتِفًا يَهْتِفُ عَلَى أَبِي قَبِيسٍ : جَزَى اللَّهُ خَيْرًا وَالْجَزَاءُ بِكَفِّهِ رَفِيقَيْنِ قَالَا خَيْمَتَيْ أُمِّ مَعْبَدِ هُمَا نَزَلَا بِالْبِرِّ وَارْتَحَلَا بِهِ فَقَدْ فَازَ مَنْ أَمْسَى رَفِيقَ مُحَمَّدِ فَمَا حَمَلَتْ مِنْ نَاقَةٍ فَوْقَ رَحْلِهَا أَبَرَّ وَأَوْفَى ذِمَّةً مِنْ مُحَمَّدِ وَأَكْسَى لِبَرْدِ الْحَالِ قَبْلَ ابْتِدَائِهِ وَأَعْطَى بِرَأْسِ السَّانِحِ الْمُتَجَرِّدِ لِيَهُنْ بَنِي كَعْبٍ مَكَانَ فَتَلَتِهِمْ وَمَقْعَدَهَا لِلْمُؤْمِنِينَ بِمَرْصَدِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنِ يَحْيَى الْمَدِينِيُّ وَنَسَبَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ إِلَى الْكَذِبِ وَقَالَ الْحَاكِمُ : صَدُوقٌ فَالْعَجَبُ مِنْهُ وَفِيهِ مَجَاهِيلُ أَيْضًا . وَقَدْ تَقَدَّمَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ الطَّرِيقِ فِي الْمَغَازِي فِي الْهِجْرَةِ إِلَى الْمَدِينَةِ . ¤
محمد محی الدین

محمد بن سلیمان بن سلیط ، اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ” جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے لئے نکلے ، تو آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے ، اور سیدنا عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ تھے ، جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں ، اور ابن اریقط نامی شخص تھا ، جو راستے کے بارے میں ان حضرات کو بتا رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر سیدہ ام معبد خزاعیہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے ہوا ، وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتی نہیں تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : اے ام معبد ! کیا تمہارے پاس دودھ ہے ؟ اس نے عرض کی : اللہ کی قسم ! بکریاں گئی ہوئی ہیں ( یا ان میں دودھ نہیں ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس بکری کا کیا معاملہ ہے ؟ جسے میں گھر کے کونے میں دیکھ رہا ہوں ، اس خاتون نے بتایا : یہ ایک ایسی بکری ہے جو کمزوری کی وجہ سے دوسری بکریوں سے پیچھے رہ گئی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم یہ اجازت دو گی کہ میں اس کا دودھ دوہ لوں ؟ اس خاتون نے کہا: اللہ کی قسم بھی کی بکرے نے اس کے ساتھ قربت نہیں کی ہے ، ویسے آپ اس کے ساتھ جو مرضی کر لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بکری کے تھنوں پر ہاتھ پھیرا ، اور پھر آپ نے ایک برتن منگوایا ، جسے زیادہ لوگ استعمال کر سکتے ہوں ، آپ نے اس میں دودھ دوہ لیا اور اس کو بھر دیا ، پھر آپ نے اپنے اصحاب کو اسے پلایا ، پھر آپ نے دوبارہ اس میں دودھ دوہ لیا اور وہ دودھ اس خاتون کے پاس چھوڑ کر آپ روانہ ہو گئے ، جب اس عورت کا شوہر شام کے وقت آیا ، تو اس نے خاتون سے کہا: اے ام معبد ! یہ دودھ کہاں سے آیا ہے ؟ جبکہ گھر میں تو دودھ دوہنے کا کوئی انتظام ہی نہیں ہے ، اور بکریاں باہر گئی ہوئی تھیں ؟ اس خاتون نے جواب دیا : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! معاملہ یہ ہے کہ ایک صاحب ہمارے پاس سے گزرے تھے ، جو وجیہہ و شکیل شخصیت کے مالک تھے ، ان کا چہرہ خوبصورت تھا ، ان کی پلکوں کے بال لمبے تھے ، ان کی آنکھیں سیاہ اور بڑی تھی ، ان کی آواز با رعب تھی ، وہ درمیانے قد و قامت کے مالک تھے ، وہ نہ تو لمبے تڑنگے محسوس ہوتے تھے اور نہ ہی چھوٹے قد کی وجہ سے آنکھ اُنہیں معیوب قرار دیتی تھی ، انہیں موٹاپا لاحق نہیں تھا ، اور نہ ہی وہ بالکل کمزور تھے ، ان کی گردن چاندی کی بنی ہوئی محسوس ہوتی تھی ، جب وہ دیکھتے تھے تو اُن پر نمایاں ہونا ظاہر ہوتا تھا ، اور جب خاموش ہوتے تھے ، تو ان پر وقار ہوتا تھا ، ان کی گفتگو موتیوں کی لڑی کی طرح تھی ، دیکھنے کے اعتبار سے وہ اپنے سب ساتھیوں سے زیادہ خوبصورت تھے ، اُن کا چہرہ سب سے زیادہ حسین تھا ، ان پر رشک کیا جا سکتا تھا ، اور وہ ایسے نہیں تھے کہ ان میں خرابی ہو ، ان کے ساتھ ان کے ساتھی بھی تھے ، جو انہیں گھیرے ہوئے تھے ، جب وہ ان ساتھیوں کو کوئی حکم دیتے تو وہ ساتھی لپک کر اس کی طرف جاتے ، اور جب وہ اُن ساتھیوں کو کسی چیز سے منع کرتے ، تو ان کے منع کرنے پر ، وہ ساتھی باز آ جاتے اس خاتون کے شوہر نے کہا: یہ تو قریش کے متعلقہ فرد ہیں ، اگر میں انہیں دیکھ لیتا ، تو ان کی پیروی کر لیتا ، اب میں پوری کوشش کروں گا کہ میں ایسا کر لوں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : مکہ میں لوگوں کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کون سی سمت کی طرف تشریف لے گئے ہیں ، یہاں تک کہ لوگوں نے جبل ابوقبیس پر کسی ہاتف کو یہ کہتے ہوئے سنا : ” اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے اور جزاء دینا ، اس کے ہاتھ میں ہے ، ان دو ساتھیوں کو ، جنہوں نے ام معبد کے خیمے میں پڑاؤ کیا تھا ، وہ دونوں نیکی کے ہمراہ وہاں ٹھہرے تھے اور پھر وہ دونوں وہاں سے روانہ ہو گئے ، تحقیق وہ شخص کامیاب ہو گیا ، جو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھی بن گیا ، کسی اونٹنی کے پالان پر کوئی ایسا شخص سوار نہیں ہوا ، جو ان سے زیادہ نیکی کرنے والا ہو اور ( ان سے زیادہ ) عہد کو پورا کرنے والا ہو ، انہوں نے آغاز سے پہلے حال کی چادر کو پہنایا ، اس شخص کے سر پر وہ چادر ڈالی ، جسے اس کی ضرورت تھی بنو کعب کو اپنی خاتون کی جگہ کے حوالے سے مبارکباد ہے ، جس خاتون کی رہائش گاہ ایمان والوں کے لئے محفوظ جگہ بنی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن یحیی مدینی ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اس کی نسبت جھوٹ کی طرف کی ہے ، امام حاکم رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ صدوق ہے ، تو اس حوالے سے حیرت ہوتی ہے ، اس روایت کی سند میں اور بھی مجہول راوی ہیں ۔ اس سے پہلے یہ حدیث ” مغازی “ سے متعلق باب میں ، مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے سے متعلق باب میں گزر چکی ہے جو دوسری سند کے ساتھ منقول ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14030
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6510)»