حدیث نمبر: 14029
وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ : خَرَجْتُ إِلَى الْيَمَنِ فَابْتَعْتُ حُلَّةَ ذِي يَزَنَ فَأَهْدَيْتُهَا إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمُدَّةِ الَّتِي كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قُرَيْشٍ فَقَالَ : " لَا أَقْبَلُ هَدِيَّةَ مُشْرِكٍ " . فَرَدَّهَا ، فَبِعْتُهَا فَاشْتَرَاهَا ، فَلَبِسَهَا ثُمَّ خَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ وَهِيَ عَلَيْهِ ، فَمَا رَأَيْتُ شَيْئًا فِي شَيْءٍ أَحْسَنَ مِنْهُ فِيهَا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَا مَكَثْتُ أَنْ قُلْتُ : ¤ وَمَا يَنْظُرُ الْحُكَّامُ فِي الْفَصْلِ بَعْدَ مَا بَدَا وَاضِحٌ مِنْ غُرَّةٍ وَحُجُولِ إِذَا قَايَسُوهُ الْمَجْدَ أَرْبَى عَلَيْهِمُ ¤ كَمُسْتَفْرِغِ مَاءِ الذِّنَابِ سَجِيلِ فَسَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَبَسَّمَ ثُمَّ دَخَلَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طَرِيقٌ أَطْوَلَ مِنْ هَذِهِ فِي الْهَدِيَّةِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں یمن گیا ، وہاں میں نے ذی یزن کا حلہ خریدا ، اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحفے کے طور پر پیش کیا ، یہ اس مدت کی بات ہے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قریش کے درمیان صلح کا معاملہ چل رہا تھا تو آپ نے فرمایا : میں کسی مشرک کا تحفہ قبول نہیں کرتا ہوں ، وہ آپ نے واپس کر دیا ، میں نے اسے فروخت کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ حلہ خرید کے اسے پہنا ، پھر آپ نکل کر اپنے اصحاب کے پاس آئے ، تو وہ حلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر تھا ، میں نے اُس حلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت اور کوئی چیز نہیں دیکھی ، اور میں نے اس وقت یہ اشعار کہے : ” ثالث لوگ فیصلہ کرنے میں کس بات کا انتظار کر رہے ہیں ؟ جبکہ جو چیز ظاہر ہوئی ہے ، وہ چمک اور سجاوٹ کے حوالے سے واضح ہے ، جب وہ بزرگی کے حوالے سے ان کا موازنہ کرتے ہیں ، تو ان ( یعنی نبی کے مخالفین ) کے خلاف ( نبی کے حق میں دلائل ) زیادہ ہونے کا فیصلہ دے دیتے ہیں ، جس طرح چھوٹے ڈول کے مقابلے میں بڑے ڈول سے پانی حاصل کرنے والا شخص ہوتا ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اشعار سنے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لے گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ویسے اُس کی توثیق کی گئی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے
یہ روایت طویل روایت کے طور پر ، ہدیہ دینے سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14029
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ اس
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (3094)»