مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ . باب: بلا عنوان
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي مِرْدَاسٍ السُّلَمِيِّ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَا بِطَهُورٍ فَغَمَسَ يَدَهُ فَتَوَضَّأَ ، فَتَتَبَّعْنَاهُ فَحَسَوْنَاهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا حَمَلَكُمْ عَلَى مَا فَعَلْتُمْ ؟ " . قُلْنَا : حُبُّ اللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ : " فَإِنْ أَحْبَبْتُمْ أَنْ يُحِبَّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَأَدُّوا إِذَا ائْتُمِنْتُمْ ، وَاصْدُقُوا إِذَا حُدِّثْتُمْ ، وَأَحْسِنُوا جِوَارَ مَنْ جَاوَرَكُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ الْقَيْسِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبدالرحمن بن حارث بن ابومرداس سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کے لئے پانی منگوایا ، آپ نے اپنا دست مبارک اس میں ڈال کر اس سے وضو کیا ، ہم اس پانی کے پیچھے رہے ، اور اسے لے کر پیتے رہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے یہ جو کیا ہے ، تو ایسا کیوں کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کے رسول سے محبت کی وجہ سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر تم یہ بات پسند کرتے ہو کہ اللہ اور اس کا رسول بھی تم سے محبت کریں ، تو تم امانت کو ادا کرو ، جب تمہیں امین بنایا گیا ہو اور جب تم بات کرو ، تو سچی کرو اور جو شخص تمہارے پڑوس میں ہو ، اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عبید بن واقد قیسی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔