مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ . باب: بلا عنوان
وَعَنْ حَكِيمَةَ بِنْتِ أُمَيْمَةَ ، عَنْ أُمِّهَا قَالَتْ : كَانَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدَحٌ مِنْ عِيدَانٍ يَبُولُ فِيهِ وَيَضَعُهُ تَحْتَ سَرِيرِهِ ، فَقَامَ فَطَلَبَهُ فَلَمْ يَجِدْهُ ، فَسَأَلَ فَقَالَ : " أَيْنَ الْقَدَحُ ؟ " . قَالُوا : شَرِبَتْهُ بَرَّةُ - خَادِمُ أُمِّ سَلَمَةَ الَّتِي قَدِمَتْ مَعَهَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَقَدِ احْتَظَرْتِ مِنَ النَّارِ بِحِظَارٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ وَحَكِيمَةَ وَكِلَاهُمَا ثِقَةٌ . ¤سیدہ حکیمہ بنت امیمہ رضی اللہ عنہا اپنی والدہ کا یہ بیان نقل کرتی ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا لکڑی سے بنا ہوا ایک پیالہ تھا ، جس میں آپ پیشاب کرتے تھے ، آپ وہ برتن اپنے پلنگ کے نیچے رکھتے تھے ، ایک دن آپ اٹھے آپ نے اسے تلاش کیا ، تو وہ آپ کو نہیں ملا ، آپ نے اس کے بارے میں دریافت کیا اور فرمایا : وہ پیالہ کہاں ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی وہ خادمہ جس کا نام برہ ہے ، اور جو حبشہ کی سرزمین سے ان کے ساتھ آئی تھی ، اُس نے اس کو پی لیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس نے جہنم سے بچاؤ کے لئے مضبوط رکاوٹ حاصل کر لی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن أحمد بن حنبل کا معاملہ مختلف ہے ، اور سیدہ حکیمہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ مختلف ہے ، اور یہ دونوں ثقہ ہیں ۔