مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ . باب: بلا عنوان
وَعَنْ سَلْمَى امْرَأَةِ أَبِي رَافِعٍ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوْقَ بَيْتِهِ جَالِسًا فَقَالَ : " يَا سَلْمَى ائْتِينِي بِغُسْلٍ " . فَجِئْتُهُ بِإِنَاءٍ فِيهِ سِدْرٌ ، فَصَفَّيْتُهُ لَهُ ، ثُمَّ جَثَا عَلَى مِرْفَقَةٍ حَشْوُهَا لِيفٌ ، وَأَنَا أَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ فَغَسَلَهَا ، وَإِنِّي أَنْظُرُ إِلَى كُلِّ قَطْرَةٍ تَقْطُرُ مِنْ رَأْسِهِ فِي الْإِنَاءِ كَأَنَّهُ الدُّرُّ يَلْمَعُ ، ثُمَّ جِئْتُهُ بِمَاءٍ فَغَسَلَهُ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غَسْلِهِ قَالَ : " يَا سَلْمَى أَهْرِيقِي مَا فِي الْإِنَاءِ فِي مَوْضِعٍ لَا يَتَخَطَّاهُ أَحَدٌ " . فَأَخَذْتُ الْإِنَاءَ فَشَرِبْتُ بَعْضَهُ ثُمَّ أَهْرَقْتُ الْبَاقِي عَلَى الْأَرْضِ فَقَالَ لِي : " مَاذَا صَنَعْتِ بِمَا فِي الْإِنَاءِ ؟ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حَسَدْتُ الْأَرْضَ عَلَيْهِ فَشَرِبْتُ بَعْضَهُ ، ثُمَّ أَهْرَقْتُ الْبَاقِي عَلَى الْأَرْضِ فَقَالَ : " اذْهَبِي حَرَّمَ اللَّهُ بَدَنَكِ عَلَى النَّارِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَعْمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ سلمیٰ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے اوپر والے حصے میں تشریف فرما تھے ، آپ نے فرمایا : اے سلمیٰ ! میرے پاس پانی لے کر آؤ ، میں آپ کے پاس ایک برتن لے کر آئی ، جس میں بیری کے پتے موجود تھے ، وہ میں نے آپ کے لئے صاف کیے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بچھونے پر گھٹنے کے بل بیٹھ گئے ، جس کے اندر پتے بھرے ہوئے تھے ، میں آپ کے اوپر پانی انڈیلنے لگی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر دھویا ، تو میں آپ کے سر سے ایک ایک قطرے کو برتن میں گرتے ہوئے دیکھ رہی تھی ، یوں لگتا تھا ، جیسے وہ موتی ہے ، جو چمک رہا ہے ، پھر وہ پانی لے کے آئیں اور آپ نے سر کو دھویا ، جب آپ سر کو دھو کر فارغ ہوئے ، تو آپ نے فرمایا : ” اے سلمیٰ اس برتن میں موجود پانی کو ایسی جگہ بہا دو ، جہاں اس پر کوئی پاؤں نہ دے سکے ۔ “ سیدہ سلمیٰ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے وہ برتن لیا ، میں نے اس پانی میں سے کچھ پی لیا اور باقی زمین پر بہا دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا : برتن میں جو ( پانی ) موجود تھا ، تم نے اس کے ساتھ کیا کیا ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کے حوالے سے مجھے زمین سے حسد محسوس ہوا ، تو میں نے اُس کا کچھ حصہ پی لیا اور باقی زمین پر بہا دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جاؤ ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے جسم کو جہنم پر حرام قرار دے دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی معمر بن محمد ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔