❮
❯
حدیث نمبر: 14002
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا فِي حَلْقَةٍ فَأَرَادَ الْقِيَامَ ، فَقَامَ غُلَامٌ فَتَنَاوَلَ نَعْلَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَدْتَ رِضَا رَبِّكَ ؟ رَضِيَ اللَّهُ عَنْكَ " ، فَكَانَ لِذَلِكَ الْغُلَامِ نَحْوٌ فِي الْمَدِينَةِ حَتَّى اسْتُشْهِدَ .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ أَبِي خَلِيفَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ .
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک حلقے میں تشریف فرما تھے ، آپ نے اٹھنے کا ارادہ کیا ، تو ایک لڑکا کھڑا ہوا ، اس نے آپ کے جوتے آپ کے سامنے رکھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے اس کے ذریعے اپنے پروردگار کی رضا کا ارادہ کیا ہے ، اللہ تعالیٰ تم سے راضی ہو جائے ، راوی کہتے ہیں : تو مدینہ منورہ میں اس لڑکے کو بعد میں نمایاں حیثیت حاصل ہوئی ، یہاں تک کہ وہ بعد میں شہید بھی ہوا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن خلیفہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14002
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2449) ، أخرجه البحر الزخار المعروف بمسند البزار 10 - 18 برقم: 6912»