کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان ، جس کے لئے نبی اکرم ﷺ نے دعا کی ہو
حدیث نمبر: 14000
عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا دَعَا لِرَجُلٍ أَصَابَتْهُ وَأَصَابَتْ وَلَدَهُ وَوَلَدَ وَلَدِهِ .
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کے لئے دعا کرتے تھے ، تو وہ دعا اسے بھی نصیب ہوتی تھی ، اس کی اولاد کو بھی نصیب ہوتی تھی ، اور اس کی اولاد کی اولاد کو بھی نصیب ہوتی تھی ۔
حدیث نمبر: 14001
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ حُذَيْفَةَ أَيْضًا : أَنَّ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَتُدْرِكُ الرَّجُلَ وَوَلَدَهُ وَوَلَدَ وَلَدِهِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنِ ابْنٍ لِحُذَيْفَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا آدمی تک ، اس کی اولاد تک اور اس کی اولاد کی اولاد تک پہنچتی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کے حوالے سے ، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ، اور میں ان کے صاحبزادے سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کے حوالے سے ، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ، اور میں ان کے صاحبزادے سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 14002
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا فِي حَلْقَةٍ فَأَرَادَ الْقِيَامَ ، فَقَامَ غُلَامٌ فَتَنَاوَلَ نَعْلَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَدْتَ رِضَا رَبِّكَ ؟ رَضِيَ اللَّهُ عَنْكَ " ، فَكَانَ لِذَلِكَ الْغُلَامِ نَحْوٌ فِي الْمَدِينَةِ حَتَّى اسْتُشْهِدَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ أَبِي خَلِيفَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک حلقے میں تشریف فرما تھے ، آپ نے اٹھنے کا ارادہ کیا ، تو ایک لڑکا کھڑا ہوا ، اس نے آپ کے جوتے آپ کے سامنے رکھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے اس کے ذریعے اپنے پروردگار کی رضا کا ارادہ کیا ہے ، اللہ تعالیٰ تم سے راضی ہو جائے ، راوی کہتے ہیں : تو مدینہ منورہ میں اس لڑکے کو بعد میں نمایاں حیثیت حاصل ہوئی ، یہاں تک کہ وہ بعد میں شہید بھی ہوا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن خلیفہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن خلیفہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 14003
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ لِغُلَامٍ مِنَ الْأَنْصَارِ : " نَاوِلْنِي نَعْلِي " ، فَقَالَ الْغُلَامُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي اتْرُكْنِي حَتَّى أَجْعَلَهَا أَنَا فِي رِجْلِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ إِنَّ عَبْدَكَ هَذَا يَتَرَضَّاكَ فَارْضَ عَنْهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک لڑکے سے کہا: میرا جوتا مجھے پکڑا دو ! اس لڑکے نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں یہ آپ کے پاؤں میں پہنا دوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! تیرا یہ بندہ تیری رضا کا طلب گار ہے ، تو اس سے راضی ہو جا !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 14004
وَعَنْ دَهْرٍ الْأَسْلَمِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي مَسِيرِهِ إِلَى خَيْبَرَ لِعَامِرِ بْنِ الْأَكْوَعِ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَرْحَمُهُ اللَّهُ " . فَقَالَ عُمَرُ : وَجَبَتْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ أَمْتَعْتَنَا بِهِ ، فَقُتِلَ يَوْمَ خَيْبَرَ شَهِيدًا . وَقَدْ تَقَدَّمَ سَمَاعُهُ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا دہر اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خیبر کی طرف سفر کے دوران ، سیدنا عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ سے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے جس میں آگے چل کے یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم اس شخص کے لئے شہادت ) واجب ہو گئی ہے ، اگر آپ ہمیں اس سے نفع لینے دیتے ( یعنی اس کی زندگی کی دعا کرتے ) تو مناسب تھا ۔ راوی کہتے ہیں : تو وہ صاحب غزوہ خیبر کے موقع پر شہید ہو گئے تھے ۔ اس سے پہلے
یہ روایت غزوہ خیبر سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ، جسے امام طبرانی نے نقل کیا ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت غزوہ خیبر سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ، جسے امام طبرانی نے نقل کیا ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔