مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي دُعَائِهِ وَاشْتِرَاطِهِ فِيهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: نبی اکرم ﷺ کی دعا کے بارے میں اور آپ ﷺ کے اس دعا میں ایک شرط عائد کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خَثَيَمٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ ، فَوَجَدْتُهُ طَيِّبَ النَّفْسِ فَقُلْتُ : يَا أَبَا الطُّفَيْلِ ، أَخْبِرْنِي عَنِ النَّفَرِ الَّذِينَ لَعَنَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَهَمَّ أَنْ يُخْبِرَنِي ، فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ سَوْدَةُ : مَهْ يَا أَبَا الطُّفَيْلِ ، أَمَا بَلَغَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، فَأَيُّمَا عَبْدٍ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ دَعَوْتُ عَلَيْهِ بِدَعْوَةٍ فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَرَحْمَةً " ؟ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤عبدالله بن عثمان بن خثیم بیان کرتے ہیں : میں سیدنا ابوطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے ان کے مزاج کو خوشگوار پایا ، تو میں نے کہا: اے سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ ! آپ مجھے ان لوگوں کے بارے میں بتائیے جن پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی تھی ، وہ مجھے اُن کے بارے میں بتانے ہی والے تھے کہ اُن کی اہلیہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے ابوطفیل ! رک جائیے ! کیا آپ کو یہ بات پتہ نہیں چلی ہے ؟ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے اللہ ! میں ایک انسان ہوں ، مؤمنین میں سے جس شخص کے خلاف میں دعا کر دوں ، تو تُو اس کو اس شخص کے لئے پاکیزگی اور رحمت کا باعث بنا دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، امام أحمد نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اور ان کی سند حسن ہے ۔