حدیث نمبر: 13999
عَنْ جَابِرٍ قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي السُّوقِ إِذِ امْرَأَةٌ أَخَذَتْ بِعِنَانِ دَابَّتِهِ وَهُوَ عَلَى حِمَارٍ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ زَوْجِي لَا يَقْرَبُنِي فَفَرِّقْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ ، وَمَرَّ زَوْجُهَا فَدَعَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا لَكَ وَلَهَا ؟ جَاءَتْ تَشْكُو مِنْكَ حَقًّا ، تَشْكُو مِنْكَ أَنَّكَ لَا تَقْرَبُهَا " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَالَّذِي أَكْرَمَكَ إِنِّ عَهْدِي بِهَا لِهَذِهِ اللَّيْلَةِ ، وَبَكَتِ الْمَرْأَةُ فَقَالَتْ : كَذِبٌ فَرِّقْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ ; فَإِنَّهُ مِنْ أَبْغَضِ خَلْقِ اللَّهِ إِلَيَّ ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ أَخَذَ بِرَأْسِهِ وَرَأْسِهَا فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا وَقَالَ : " اللَّهُمَّ أَدْنِ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنْ صَاحِبِهِ " ، قَالَ جَابِرٌ : فَلَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ نَلْبَثَ ثُمَّ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالسُّوقِ فَإِذَا نَحْنُ بِامْرَأَةٍ تَحْمِلُ أَدَمًا فَلَمَّا رَأَتْهُ طَرَحَتِ الْأَدَمَ وَأَقْبَلَتْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا خُلِقَ مِنْ بَشَرٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ إِلَّا أَنْتَ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يُوسُفَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بازار میں موجود تھے ، اسی دوران ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جانور کی لگام پکڑ لی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک گدھے پر سوار تھے ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا شوہر میرے قریب نہیں آتا ہے ، آپ میرے اور اس کے درمیان علیحدگی کروا دیں ، پھر اس عورت کا شوہر گزرا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا : کیا وجہ ہے ؟ تمہارا اس عورت کے ساتھ کیا معاملہ ہے ؟ وہ تمہاری شکایت کرنے کے لئے آئی تھی اور وہ شکایت کر رہی تھی کہ تم اس کے قریب نہیں جاتے ہو ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو عزت عطا کی ہے ، میں نے گزشتہ رات اس عورت کے ساتھ قربت کی ہے ، وہ عورت رونے لگی اور بولی: یہ غلط کہہ رہا ہے ، آپ میرے اور اس کے درمیان علیحدگی کروا دیں ، یہ میرے نزدیک اللہ کی مخلوق میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ فرد ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ مسکرا دیے ، پھر آپ نے اس مرد کے سر اور اس عورت کے سر کو پکڑ کر انہیں ساتھ ملایا اور یہ دعا کی : ” اے اللہ ! ان میں سے ہر ایک کو ، دوسرے کے قریب کر دے ۔ “ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : کچھ عرصہ گزرا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر اس بازار سے ہوا ، تو وہاں وہ عورت موجود تھی ، اس نے چمڑا اُٹھایا ہوا تھا ، جب اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، تو اس نے چمڑا ایک طرف رکھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئی ، اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، اب اس شخص ( یعنی میرے شوہر ) سے زیادہ کوئی بھی فرد ، میرے نزدیک زیادہ محبوب نہیں ہے ، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ مختلف ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف یوسف بن محمد بن منکدر کا معاملہ مختلف ہے ، ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13999
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (1868)»