مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي دُعَائِهِ وَاشْتِرَاطِهِ فِيهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: نبی اکرم ﷺ کی دعا کے بارے میں اور آپ ﷺ کے اس دعا میں ایک شرط عائد کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 13996
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اللَّهُمَّ مَنْ لَعَنْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ثُمَّ دَخَلَ فِي الْإِسْلَامِ ، فَاجْعَلْ ذَلِكَ قُرْبَةً لَهُ إِلَيْكَ " ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ حَالِ أَبِي السَّوَّارِ فِي مَنَاقِبِهِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اے اللہ ! میں نے زمانہ جاہلیت میں ، جس پر لعنت کی ہو اور پھر وہ مسلمان ہو گیا ہو ، تو تُو اس چیز کو اس شخص کے لئے اپنی بارگاہ میں مقرب ہونے کا باعث بنا دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد شاذ کونی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوسوار رضی اللہ عنہ کی حالت کے بارے میں حدیث اُن کے مناقب سے متعلق باب میں آگے آئے گی ۔