حدیث نمبر: 13971
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : لَقَدْ تَرَكْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا يُحَرِّكُ طَائِرٌ جَنَاحَيْهِ فِي السَّمَاءِ إِلَّا ذَكَّرَنَا مِنْهُ عِلْمًا ، رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَزَادَ : فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا بَقِيَ شَيْءٌ يُقَرِّبُ مِنَ الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُ مِنَ النَّارِ إِلَّا وَقَدْ بُيِّنَ لَكُمْ " . وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئِ وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ مَنْ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسی حالت میں چھوڑا کہ آسمان میں جو پرندہ اپنے پروں کو حرکت دیتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کے حوالے سے بھی علم ذکر کر دیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو بھی چیز جنت کے قریب کر سکتی ہے ، اور جہنم سے دور کر سکتی ہے ، ان میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہی ، مگر یہ کہ وہ تمہارے سامنے بیان کر دی گئی ہے ۔ “ طبرانی کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن یزید مقری کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، امام أحمد کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13971
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (147) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1647) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير 153/4»