مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا أُوتِيَ مِنَ الْعِلْمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: نبی اکرم ﷺ کو جو علم عطا کیا گیا ، اس کا بیان
عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أُوتِيتُ مَفَاتِيحَ كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا الْخَمْسُ : ( إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ ) ، قُلْتُ : لِابْنِ عُمَرَ فِي الصَّحِيحِ : " مَفَاتِيحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ " ، رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے ہر چیز کی کنجیاں عطا کر دی گئی ہیں ، البتہ پانچ چیزوں کا معاملہ مختلف ہے ( جن کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے : ) ” بے شک اللہ تعالیٰ کے پاس ہی قیامت کا علم ہے ، اور وہ بارش نازل کرتا ہے ، اور وہ جانتا ہے جو رحموں میں ہوتا ہے ، اور کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا ؟ اور کوئی یہ نہیں جانتا کہ وہ کس سرزمین پر مرے گا ، بے شک اللہ تعالیٰ علم والا خبر والا ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث صحیح میں مذکور ہے ، جس میں یہ ذکر ہے کہ غیب کی کنجیاں پانچ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔