حدیث نمبر: 13958
وَعَنْ رَبِيعَةَ الْجَرْشِيِّ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتِيَ فَقِيلَ لَهُ : لِتَنَمْ عَيْنُكَ ، وَلْتَسْمَعْ أُذُنُكَ ، وَلْيَعْقِلْ قَلْبُكَ قَالَ : فَنَامَتْ عَيْنِي ، وَسَمِعَتْ أُذُنِي ، وَعَقَلَ قَلْبِي ، قَالَ : فَقِيلَ لَهُ : سَيِّدٌ بَنَى دَارًا ، وَصَنَعَ مَأْدُبَةً ، وَأَرْسَلَ دَاعِيًا ، فَمَنْ أَجَابَ الدَّاعِيَ دَخَلَ الدَّارَ وَأَكَلَ مِنَ الْمَأْدُبَةِ وَرَضِيَ عَلَيْهِ السَّيِّدُ ، وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّاعِيَ لَمْ يَدْخُلِ الدَّارَ وَلَمْ يَنَلْ مِنَ الْمَأْدُبَةِ وَسَخِطَ عَلَيْهِ السَّيِّدُ وَالسَّيِّدُ هُوَ اللَّهُ ، وَالدَّاعِي مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْمَأْدُبَةُ الْجَنَّةُ ، قَالَ : وَذَكَرَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ربیعہ جرشی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ؛ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فرشتہ آیا اور آپ سے کہا: گیا : آپ کی آنکھیں سو رہی ہیں ، لیکن آپ کے کان سن رہے ہیں ، اور آپ کا دل سمجھ رہا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری آنکھیں سو رہی ہیں ، میرے کان سن رہے ہیں ، اور میرا دل سمجھ رہا ہے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا: گیا : ایک سردار نے ایک گھر بنایا اور ایک دسترخوان تیار کیا اور ایک دعوت دینے والے کو بھیجا ، تو جس شخص نے دعوت دینے والے کی بات کو قبول کیا ، وہ گھر میں آ جائے گا اور دسترخوان سے کھائے گا ، اور سردار اس سے راضی ہو جائے گا ، اور جس شخص نے دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول نہیں کیا ، وہ گھر میں نہیں آئے گا اور دسترخوان سے کچھ حاصل نہیں کر پائے گا ، اور سردار اس پر ناراض ہو جائے گا ، تو سردار ، اللہ تعالیٰ ہے ، اور دعوت دینے والے ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور دسترخوان جنت ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ، راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری روایت نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے حسن سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13958
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4597)»