مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي مَثَلِهِ وَمَثَلِ مَنْ أَطَاعَهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: نبی اکرم ﷺ اور آپ ﷺ کی پیروی کرنے والوں کی مثال
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاهُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ مَلَكَانِ ، فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رِجْلَيْهِ وَالْآخَرُ عِنْدَ رَأْسِهِ ، فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رِجْلَيْهِ لِلَّذِي عِنْدَ رَأْسِهِ : اضْرِبْ مَثَلَ هَذَا وَمَثَلَ أُمَّتِهِ ، فَقَالَ : إِنَّ مَثَلَ هَذَا وَمَثَلَ أُمَّتِهِ كَمَثَلِ قَوْمٍ سَفْرٍ انْتَهَوْا إِلَى رَأْسِ مَفَازَةٍ ، فَلَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ مِنَ الزَّادِ مَا يَقْطَعُونَ بِهِ الْمَفَازَةَ وَلَا مَا يَرْجِعُونَ بِهِ ، فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ أَتَاهُمْ رَجُلٌ فِي حُلَّةٍ حِبَرَةٍ فَقَالَ أَرَأَيْتُمْ إِنْ وَرَدْتُ بِكُمْ رِيَاضًا مُعْشِبَةً وَحِيَاضًا رُوَاءً ، أَتَتَّبِعُونِي ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، فَانْطَلَقَ بِهِمْ فَأَوْرَدَهُمْ رِيَاضًا مُعْشِبَةً وَحِيَاضًا رُوَاءً ، فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا وَسَمِنُوا ، فَقَالَ لَهُمْ أَلَمْ أَلْقَكُمْ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ فَجَعَلْتُمْ لِي إِنْ أُورِدْكُمْ رِيَاضًا مُعْشِبَةً وَحِيَاضًا رُوَاءً أَنْ تَتَّبِعُونِي ؟ قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : فَإِنَّ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ رِيَاضًا هِيَ أَعْشَبُ مِنْ هَذِهِ وَحِيَاضًا أَرْوَى مِنْ هَذِهِ فَاتَّبِعُونِي ، قَالَ : فَقَامَتْ طَائِفَةٌ قَالَتْ : صَدَقَ وَاللَّهِ ، لَنَتَّبِعَنَّهُ ، وَقَالَتْ طَائِفَةٌ : قَدْ رَضِينَا بِهَذَا نُقِيمُ عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں دیکھا کہ دو فرشتے آپ کے پاس آئے ، ان میں سے ایک آپ کی پائینتی بیٹھ گیا اور دوسرا آپ کے سرہانے بیٹھ گیا ، جو فرشتہ آپ کی پائینتی بیٹھا ہوا تھا ، اس نے سرہانے موجود فرشتے سے کہا: تم ان کی اور ان کی امت کی مثال بیان کرو ! تو اس نے کہا: ان کی اور ان کی امت کی مثال سفر کرنے والے لوگوں کی مانند ہے جو کسی ویرانے میں ایک جگہ پر پہنچتے ہیں ، ان کے پاس زاد سفر نہیں ہوتا ، جس کی مدد سے وہ اس ویرانے کو پار کر سکیں ، اور نہ ہی وہ اس جگہ سے واپس جا سکتے ہیں ، ابھی وہ اسی حالت میں ہوتے ہیں کہ اُن کے پاس ایک شخص آتا ہے ، جس نے یمنی چادر کا حلہ پہنا ہوا ہوتا ہے ، وہ یہ کہتا ہے : اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ کہ اگر میں تم لوگوں کو سرسبز و شاداب باغات اور دیدہ زیب حوضوں میں لے جاؤں ؟ تو کیا تم لوگ میری پیروی کر لو گے ؟ وہ جواب دیتے ہیں : جی ہاں ! وہ اُن کو ساتھ لے کر سرسبز و شاداب باغات میں اور دیدہ زیب حوضوں میں جاتا ہے ، وہ لوگ وہاں کھاتے پیتے ہیں ، موٹے ہو جاتے ہیں ، پھر وہ شخص ان سے کہتا ہے : جب میں نے تمہارے ساتھ ملاقات کی تھی ، تو تمہاری ایک مخصوص حالت تھی ، اور تم نے میرے ساتھ یہ طے کیا تھا کہ میں تم لوگوں کو سرسبز و شاداب باغات اور حوضوں میں لے جاؤں گا ، اور پھر تم لوگ پیروی کر لو گے ، تو وہ لوگ کہتے ہیں : ٹھیک ہے ، تو وہ شخص کہتا ہے : آگے ایسے باغات ہیں ، جو ان سے زیادہ سرسبز و شاداب ہیں ، اور ایسے حوض ہیں ، جو ان سے زیادہ اچھے ہیں ، تو تم لوگ میری پیروی کرو ! تو ایک گروہ یہ کہتا ہے : اللہ کی قسم ! یہ ٹھیک کہہ رہے ہیں ، ہم ان کی پیروی کریں گے ، اور ایک گروہ کہتا ہے : ہم اسی پر راضی ہیں ، اور ہم یہیں رہیں گے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔