مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي بَعْثَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعُمُومِهَا وَنُزُولِ الْوَحْيِ . باب: آپ ﷺ کی بعثت ، آپ ﷺ کی بعثت کا عمومی ہونا اور وحی کے نزول کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ : وُلِدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَ الْفِيلِ ، وَبَيْنَ الْفِجَارِ وَبَيْنَ الْفِيلِ عِشْرُونَ سَنَةً ، قَالَ : سَمُّوهُ الْفِجَارَ لِأَنَّهُمْ [ فَجَرُوا ] ، وَأَحَلُّوا أَشْيَاءَ كَانُوا يُحَرِّمُونَهَا ، وَكَانَ بَيْنَ الْفِجَارِ وَبَيْنَ بِنَاءِ الْكَعْبَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً ، وَبَيْنَ بِنَاءِ الْكَعْبَةِ وَمَبْعَثِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَمْسُ سِنِينَ ، فَبُعِثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعِينَ ، قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ مِنْهُ الْمَوْلُودَ فَقَطْ ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ السَّبَّاكُ وَقَدْ وُثِّقَ وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا قیس بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عام الفیل میں پیدا ہوئے تھے اور جنگ فجار اور عام الفیل کے درمیان میں سال کا فرق ہے ، راوی کہتے ہیں : لوگوں نے اسے جنگ فجار کا نام اس لیے دیا ہے ، کیونکہ ان لوگوں نے زیادتی کی تھی اور ان چیزوں کو حلال قرار دے دیا تھا ، جسے وہ حرام قرار دیتے تھے ، جنگ فجار اور خانہ کعبہ کی تعمیر کے درمیان پندرہ سال کا وقفہ ہے ، اور خانہ کعبہ کی تعمیر اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے درمیان پانچ سال کا فرق ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت چالیس سال کی عمر میں ہوئی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس میں سے صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش والا حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن مہران سماک ہے اس کی توثیق کی بھی کی گئی ہے ، اور اس کے بارے میں کلام بھی کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔