مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي بَعْثَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعُمُومِهَا وَنُزُولِ الْوَحْيِ . باب: آپ ﷺ کی بعثت ، آپ ﷺ کی بعثت کا عمومی ہونا اور وحی کے نزول کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : كُنْتُ أَكْتُبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ أَخَذَتْهُ بُرَحَاءٌ شَدِيدَةٌ وَعَرِقَ عَرَقًا شَدِيدًا مِثْلَ الْجُمَانِ ، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ ، فَكُنْتُ أَدْخُلُ بِقِطْعَةِ الْعُسُبِ أَوْ كِسَرِهِ ، فَأَكْتُبُ وَهُوَ يُمْلِي عَلَيَّ ، فَمَا أَفْرُغُ حَتَّى تَكَادَ رِجْلِي تَنْكَسِرُ مِنْ ثِقَلِ الْقُرْآنِ ، حَتَّى أَقُولَ : لَا أَمْشِي عَلَى رِجْلِي أَبَدًا ، فَإِذَا فَرَغْتُ قَالَ : " اقْرَأْهُ " ، فَأَقْرَأُهُ ، فَإِنْ كَانَ فِيهِ سَقْطٌ أَقَامَهُ ، ثُمَّ أَخْرُجُ بِهِ إِلَى النَّاسِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وحی کی کتابت کیا کرتا تھا ، جب آپ پر وحی نازل ہوتی تھی ، تو آپ پر شدید کپکپی طاری ہو جاتی تھی اور بہت زیادہ پسینہ آتا تھا ، جو موتیوں کی مانند ہوتا تھا ، پھر جب آپ کی یہ کیفیت ختم ہو جاتی تھی ، تو میں کوئی لکڑی یا ٹکڑا لے کر اُس پر وہ وحی تحریر کرتا تھا ، اور آپ وہ املاء کرواتے تھے ، ایک مرتبہ ایسی ہی کیفیت کے دوران ( آپ کا زانوں میری ٹانگ پر تھا ) تو قریب تھا کہ قرآن کے بوجھ کی وجہ سے میری ٹانگ ٹوٹ جائے ، یہاں تک کہ میں یہ سوچ رہا تھا کہ میں اس ٹانگ پر کبھی نہیں چل سکوں گا ، جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے پڑھو ! میں نے اُسے پڑھا ، اُس دوران جو غلطی ہوتی تھی ، آپ اُسے ٹھیک کروا دیتے تھے ، پھر میں اسے لے کر لوگوں کے پاس چلا جاتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔