حدیث نمبر: 13891
وَعَنْ أَبِي صَخْرٍ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ قَالَ : جَلَبْتُ حَلُوبَةً إِلَى الْمَدِينَةِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ بَيْعَتِي قُلْتُ : لَأَلْقَيْنَ هَذَا الرَّجُلَ فَلَأَسْمَعَنَّ مِنْهُ ، قَالَ : فَتَلَقَّانِي بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ يَمْشُونَ ، فَتَبِعْتُهُمْ فِي أَقْفَائِهِمْ حَتَّى أَتَوْا عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ نَاشِرٍ التَّوْرَاةَ يَقْرَأُهَا ، يُعَزِّي بِهَا نَفْسَهُ ، عَلَى ابْنٍ لَهُ كَأَحْسَنِ الْفِتْيَانِ فِي الْمَوْتِ [ وَأَجْمَلَهُ ] ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْشُدُكَ بِالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ ، هَلْ تَجِدُنِي فِي كِتَابِكَ [ ذَا ] صِفَتِي وَمُخْرَجِي ؟ ! " ، فَقَالَ بِرَأْسِهِ هَكَذَا ، أَيْ : لَا ، فَقَالَ ابْنُهُ : إِنِّي وَالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ إِنَّا لَنَجِدُ فِي كِتَابِنَا صِفَتَكَ وَمُخْرَجَكَ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ : " أَقِيمُوا الْيَهُودِيَّ عَنْ أَخِيكُمْ " ، ثُمَّ وَلِيَ كَفَنَهُ وَحَنْطَهُ وَالصَّلَاةَ عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو صَخْرٍ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ابوصخر عقیلی بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نے مجھے بتایا کہ میں دودھ دوہ کر مدینہ منورہ لے کر گیا ، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی بات ہے ، جب میں اس کو فروخت کر کے فارغ ہوا ، تو میں نے سوچا مجھے اُن صاحب سے ملنا چاہیے اور مجھے اُن کی بات سننی چاہیے تو میرا سامنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا ، آپ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان چلتے ہوئے جا رہے تھے ، میں ان حضرات کے پیچھے چل پڑا ، یہ حضرات یہودیوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے پاس آئے ، جس نے تورات کو کھولا ہوا تھا اور اسے پڑھ رہا تھا اور وہ اپنے لڑکے کے سرہانے اُسے پڑھ رہا تھا ، جو ( لڑکا ) مرنے کے قریب تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں تمہیں اُس اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں ، جس نے تورات کو نازل کیا ہے ، کیا تم اپنی کتاب میں میرا حلیہ اور میری بعثت کے بارے میں چیز پاتے ہو ؟ تو اس نے اپنے سر کے ذریعے اس طرح اشارہ کیا : کہ جی نہیں ! تو اس کے بیٹے نے ( جو قریب المرگ تھا ) یہ کہا: اس ذات کی قسم ! جس نے تورات کو نازل کیا ہے ، ہم اپنی کتابوں میں آپ کا حلیہ اور آپ کی بعثت کے بارے میں ذکر پاتے ہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور آپ اللہ کے رسول ہیں ( پھر اُس لڑکے کا انتقال ہو گیا ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنے بھائی کو یہودیوں سے لے لو ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کے کفن دفن کا انتظام کیا ، اسے خوشبو لگائی اور اس کی نماز جنازہ پڑھائی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور ابوصخر نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13891
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (411/5)»