مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ تَأْيِيدِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَعْدَائِهِ مِنَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ . باب: نبی اکرم ﷺ کی ، اپنے انسانی اور جنّ دشمنوں کے خلاف تائید ہونا
وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ : كَانَ نَفَرٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ حَوْلَ الْكَعْبَةِ فِيهِمْ أَبُو جَهْلٍ لَعَنَهُ اللَّهُ ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَقَفَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ : " قَبُحَتِ الْوُجُوهُ " ، فَخُرِسُوا ، فَمَا أَحَدٌ مِنْهُمْ تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ ، وَلَقَدْ نَظَرْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ يَعْتَذِرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : أَمْسِكْ عَنَّا ، وَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا أُمْسِكُ عَنْكُمْ ، أَوْ أَقْتُلُكُمْ " ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ لَعَنَهُ اللَّهُ : أَنْتَ تَقْدِرُ عَلَى ذَلِكَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُ يَقْتُلُكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مشرکین سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد خانہ کعبہ کے اردگرد موجود تھے ، ان میں ابوجہل تھا ، اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے ، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ ان لوگوں کے پاس آ کر ٹھہر گئے ، آپ نے فرمایا : یہ چہرے قبیح ہو جائیں ، تو وہ سب لوگ گونگے ہو گئے ، ان میں سے کوئی بھی کوئی بات نہیں کر رہا تھا ، راوی کہتے ہیں : میں نے ابوجہل کو دیکھا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے معذرت پیش کرنے لگا اور بولا: ہم سے رک جائیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تم سے نہیں رکوں گا ، بلکہ میں تمہیں قتل کر دوں گا ، تو ابوجہل نے کہا: آپ اس بات پر قدرت رکھ پائیں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو قتل کروائے گا ۔
یہ روایت امام بزار نے ، اپنے استاد عبداللہ بن شبیب کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔