حدیث نمبر: 13874
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مَرَّ أَبُو جَهْلٍ فَقَالَ : أَلَمْ أَنْهَكَ ؟ فَانْتَهَرَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لِمَ تَنْتَهِرَنِي يَا مُحَمَّدُ ؟ فَوَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا بِهَا رَجُلٌ أَكْثَرَ نَادِيًا مِنِّي ، قَالَ : فَقَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ : فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَوَاللَّهِ لَوْ دَعَا نَادِيَهُ ، لَأَخَذَتْهُ الزَّبَانِيَةُ بِالْعَذَابِ ، قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ ، رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِ ذَكْوَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ وَلَمْ أَعْرِفْ ذَكْوَانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ابوجہل نے کہا: کیا میں نے آپ کو منع نہیں کیا تھا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جھڑکا ، تو اُس نے کہا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ مجھے کیوں جھڑک رہے ہیں ؟ اللہ کی قسم : آپ کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے ہوں گے ، جس کے ساتھ بیٹھنے والے لوگ مجھ سے زیادہ ہوں ، راوی کہتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: اُسے چاہیے کہ وہ اپنے ساتھی لوگوں کو بلا لے ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اللہ کی قسم ! اگر وہ شخص اپنے ساتھیوں کو بلا لیتا ، تو فرشتوں نے عذاب کے ہمراہ اسے پکڑ لینا تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ذکوان کے حوالے سے عکرمہ سے نقل کی ہے ، اور میں ذکوان سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13874
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (256/1)»