حدیث نمبر: 13864
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا هَمَمْتُ بِشَيْءٍ مِمَّا كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَعْمَلُونَ بِهِ غَيْرَ مَرَّتَيْنِ ، كُلُّ ذَلِكَ يَحُولُ اللَّهُ بَيْنِي وَبَيْنَ مَا أُرِيدُ مِنْ ذَلِكَ ، ثُمَّ مَا هَمَمْتُ بَعْدَهَا بِشَيْءٍ حَتَّى أَكْرَمَنِي اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” زمانہ جاہلیت میں لوگ جو اعمال کیا کرتے تھے ، میں نے اُن میں سے کسی بھی چیز کا ارادہ نہیں کیا ، البتہ دو مرتبہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور ہر مربتہ اللہ تعالیٰ میرے اور میرے ارادے کے درمیان رکاوٹ بن گیا ، پھر اس کے بعد میں نے اس حوالے سے کسی چیز کا ارادہ نہیں کیا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے حوالے سے مجھے عزت عطا کی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13864
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2403)»