مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي أَوَّلِ أَمْرِهِ وَشَرْحِ صَدْرِهِ أَيْضًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: نبی اکرم ﷺ کے معاملے کا آغاز اور آپ ﷺ کے شرح صدر کا بیان
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ جَرِيئًا عَلَى أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أَشْيَاءَ لَا يَسْأَلُهُ عَنْهَا غَيْرُهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَوَّلُ مَا رَأَيْتَ مِنْ أَمْرِ النُّبُوَّةِ ؟ فَاسْتَوَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا وَقَالَ : " لَقَدْ سَأَلْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، إِنِّي لَفِي صَحْرَاءَ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ وَأَشْهُرٍ ، وَإِذَا بِكَلَامٍ فَوْقَ رَأْسِي ، وَإِذَا بِرَجُلٍ يَقُولُ لِرَجُلٍ : أَهُوَ هُوَ ؟ قَالَ : نَعَمْ . فَاسْتَقْبَلَانِي بِوُجُوهٍ لَمْ أَرَهَا لِخَلْقٍ قَطُّ ، وَأَرْوَاحٍ لَمْ أَجِدْهَا مِنْ خَلْقٍ قَطُّ ، وَثِيَابٍ لَمْ أَرَهَا عَلَى أَحَدٍ قَطُّ ، فَأَقْبَلَا إِلَيَّ يَمْشِيَانِ ، حَتَّى أَخَذَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِعَضُدِي ، لَا أَجِدُ لِأَخْذِهِمَا مَسًّا ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : أَضَجِعْهُ . فَأَضْجَعَانِي بِلَا قَصْرٍ وَلَا هَصْرٍ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : افْلِقْ صَدْرَهُ . فَهَوَى أَحَدُهُمَا إِلَى صَدْرِي فَفَلَقَهَا فِيمَا أَرَى بِلَا دَمٍ وَلَا وَجَعٍ ، فَقَالَ لَهُ : أَخْرِجِ الْغِلَّ وَالْحَسَدَ . فَأَخْرَجَ شَيْئًا كَهَيْئَةِ الْعَلَقَةِ ، ثُمَّ نَبَذَهَا فَطَرَحَهَا ، فَقَالَ لَهُ : أَدْخِلِ الرَّحْمَةَ وَالرَّأْفَةَ . فَإِذَا مِثْلُ الَّذِي أَخْرَجَ شَبِيهَ الْفِضَّةِ ، ثُمَّ هَزَّ إِبْهَامَ رِجْلِي الْيُمْنَى فَقَالَ : اغْدُ وَاسْلَمْ . فَرَجَعْتُ بِهَا أَغْدُو بِهَا رِقَّةً عَلَى الصَّغِيرِ وَرَحْمَةً عَلَى الْكَبِيرِ " . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَثَّقَهُمُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی چیزوں کے بارے میں دریافت کرنے کی جرأت رکھتے تھے جن کے بارے میں اُن کے علاوہ کوئی اور دریافت نہیں کرتا تھا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! نبوت کے معاملے کے حوالے سے آپ نے سب سے پہلے جو چیز دیکھی تھی ، وہ کیا تھی ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہو کر بیٹھ گئے آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے ابوہریرہ ! تم نے ایک اہم سوال کیا ہے ، ایک مرتبہ میں صحراء میں موجود تھا ، میری عمر دس سال کچھ ماہ ہو گی ، اس دوران میں نے اپنے اوپر سے بات چیت کرنے کی آواز سنی ، تو کوئی ایک فرد دوسرے سے کہہ رہا تھا : کہ کیا یہ وہی ہیں ؟ دوسرے نے جواب دیا : جی ہاں ! تو دونوں سامنے سے میری طرف آئے ، میں نے اس طرح کی مخلوق کبھی نہیں دیکھی تھی ، اور وہ ارواح تھیں ، اس طرح کی مخلوق میں نے کبھی نہیں دیکھی تھی ، ان کے لباس اس طرح کے تھے کہ میں نے ایسا لباس کبھی کسی کے جسم پر نہیں دیکھا تھا ، وہ دونوں چلتے ہوئے میرے پاس آئے یہاں تک کہ ان میں سے ہر ایک نے میرے بازو کو پکڑ لیا ، لیکن مجھے ان میں سے کسی کے چھونے کا محسوس نہیں ہو رہا تھا ، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: تم انہیں لٹا دو ! ان دونوں نے مجھے سانس میں کوئی رکاوٹ پیدا کیے بغیر اور کسی عضو کو توڑے بغیر لٹا دیا ، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ان کے سینے کو چیر دو ! پھر ان میں سے ایک میرے سینے کی طرف جھکا ، اس نے اسے چیر دیا ، لیکن اس میں نہ کوئی خون نکلا ، نہ کوئی تکلیف محسوس ہوئی ، اس نے دوسرے سے کہا: تم کھوٹ اور حسد کو نکال دو ! تو اس نے ایک ایسی چیز نکالی جو جمے ہوئے خون کی مانند تھی ، اور پھر اسے ایک طرف رکھ دیا ، اس نے دوسرے سے کہا: اس میں رحمت اور مہربانی داخل کر دو ! تو وہ چاندی کی طرح کی کوئی چیز تھی ، جو لائی گئی ، پھر اس نے میرے دائیں پاؤں کے انگوٹھے کو ہلایا اور بولا: تم اُٹھ جاؤ اور تم سلامت رہو ! تو میں جب وہاں سے واپس آیا ، تو میری یہ حالت تھی کہ میں چھوٹے پر مہربان تھا اور بڑے پر رحمت کرنے والا تھا ۔
یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، ابن حبان نے انہیں ثقہ قرار دیا ہے ۔