حدیث نمبر: 13842
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا كَانَ بَدْءُ أَوَّلِ أَمْرِكَ ؟ قَالَ : " دَعْوَةُ إِبْرَاهِيمَ ، وَبُشْرَى عِيسَى ، وَرَأَتْ أُمِّي أَنَّهُ يَخْرُجُ مِنْهَا نُورٌ أَضَاءَتْ مِنْهُ قُصُورُ الشَّامِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ وَلَهُ شَوَاهِدُ تُقَوِّيهِ . وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے معاملے کا آغاز کیسے ہوا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ( میں ) سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعا ، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی خوشخبری کا نتیجہ ہوں ، میری والدہ نے یہ چیز دیکھی کہ ان میں سے ایک نور نکلا اور اس نور کی وجہ سے شام کے محلات روشن ہو گئے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے اس روایت کے شواہد موجود ہیں ، جو اس کو تقویت دیتے ہیں ، یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13842
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7729) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (262/5)»