حدیث کتب › مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين— انبیاء علیہم السلام کے تذکرے سے متعلق روایات
بَابُ ذِكْرِ الْأَنْبِيَاءِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَسَلَّمَ . باب: انبیاء کرام کا تذکرہ
حدیث نمبر: 13810
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : بُعِثَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ ثَمَانِيَةِ آلَافِ نَبِيٍّ ، مِنْهُمْ أَرْبَعَةُ آلَافٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُهَاجِرِ بْنِ مِسْمَارٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَيَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ وُثِّقِ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کے نبی کو آٹھ ہزار انبیاء کرام کے بعد مبعوث کیا گیا ہے ، جن میں سے چار ہزار انبیاء کرام کا تعلق بنی اسرائیل سے تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس میں ایک راوی ابراہیم بن مہاجر بن مسمار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، ابن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک راوی یزید رقاشی ہے ، جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔