حدیث نمبر: 13807
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَبِيٌّ كَانَ آدَمُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : كَمْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ نُوحٍ ؟ قَالَ : " عَشَرَةُ قُرُونٍ " . قَالَ : كَمْ كَانَ بَيْنَ نُوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ ؟ قَالَ : " عَشَرَةُ قُرُونٍ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَمْ كَانَتِ الرُّسُلُ ؟ قَالَ : " ثَلَاثُمِائَةٍ وَثَلَاثَةَ عَشَرَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ أَحْمَدَ بْنِ خُلَيْدٍ الْحَلَبِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا سیدنا آدم علیہ السلام نبی تھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! اس نے دریافت کیا : ان کے اور سیدنا نوح علیہ السلام کے درمیان کتنا عرصہ تھا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دس صدیاں ، اس نے دریافت کیا : سیدنا نوح علیہ السلام اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے درمیان کتنا عرصہ تھا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دس صدیاں ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! رسول کتنے تھے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تین سو تیرہ تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف أحمد بن خلید حلبی نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13807
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (405) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7545)»