حدیث نمبر: 13806
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَجَلَسْتُ فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، هَلْ صَلَّيْتَ ؟ " . فَقُلْتُ : لَا . قَالَ : " قُمْ فَصَلِّ " . قَالَ : فَقُمْتُ فَصَلَّيْتُ ، ثُمَّ جَلَسْتُ فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، تَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلِلْإِنْسِ شَيَاطِينُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الصَّلَاةُ ؟ قَالَ : " خَيْرُ مَوْضُوعٍ ، مَنْ شَاءَ أَقَلَّ وَمَنْ شَاءَ أَكْثَرَ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَالصَّوْمُ ؟ قَالَ : " فَرْضٌ مُجْزِئٌ وَعِنْدَ اللَّهِ مَزِيدٌ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَالصَّدَقَةُ ؟ قَالَ : " أَضْعَافٌ مُضَاعَفَةٌ " . قَالَ : قُلْتُ : فَأَيُّهَا أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " جُهْدٌ مِنْ مُقِلٍّ أَوْ سِرٌّ إِلَى فَقِيرٍ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْأَنْبِيَاءِ كَانَ أَوَّلَ ؟ قَالَ : " آدَمُ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَنَبِيٌّ كَانَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، نَبِيٌّ مُكَلَّمٌ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَمِ الْمُرْسَلُونَ ؟ قَالَ : " ثَلَاثَمِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشَرَ ، جَمًّا غَفِيرًا " . أَوْ قَالَ مَرَّةً : " خَمْسَةَ عَشَرَ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، آدَمُ نَبِيٌّ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، مُكَلَّمٌ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّمَا أُنْزِلَ عَلَيْكَ أَعْظَمُ ؟ قَالَ : " آيَةُ الْكُرْسِيِّ ( اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ) " . قُلْتُ : رَوَى النَّسَائِيُّ طَرَفًا مِنْهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ هُوَ وَحَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ ، وَالْكَلَامُ عَلَيْهِمَا فِي الْعِلْمِ فِي حُسْنِ السُّؤَالِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے ، میں بیٹھ گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے ابوذر ! کیا تم نے نماز ادا کر لی ہے ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اٹھو اور نماز ادا کرو ! راوی کہتے ہیں : میں اُٹھا اور میں نے نماز ادا کی ، پھر میں آ کر بیٹھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابوذر ! انسانوں اور جنات سے تعلق رکھنے والے شیطانوں کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو ! راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا انسانوں میں بھی شیاطین ہوتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! میں نے دریافت کیا : نماز کیا چیز ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ دی گئی بہتر چیز ہے ، جو شخص چاہے کم کر لے ، اور جو شخص چاہے وہ زیادہ کر لے ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! روزہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک ایسا فرض ہے ، جس کی جزا ملے گی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مزید ( انعام و اکرام بھی ) ملے گا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! صدقہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک ایسی چیز ، جس کا کئی گنا اجر ہو گا ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کون سا صدقہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایسے شخص کا صدقہ کرنا ، جس کے پاس مال کم ہو اور وہ محنت کر کے ( کمائی کو صدقہ کرے ) یا پھر کسی غریب کو پوشیدہ طور پر صدقہ دینا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! انبیاء میں کون سب سے پہلے تھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سیدنا آدم علیہ السلام ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا وہ نبی تھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! وہ ایسے نبی تھے ، جس کے ساتھ کلام کیا گیا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! رسولوں کی تعداد کتنی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تین سو دس سے زیادہ زیادہ ہے ، جو ایک بڑی تعداد ہے ( ایک مرتبہ راوی نے لفظ تین سو پندرہ نقل کیا ہے ) میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا سیدنا آدم علیہ السلام نبی تھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! ان کے ساتھ کلام بھی کیا گیا تھا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کچھ نازل ہوا ہے ، ان میں سب سے عظیم آیت کون سی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آیت الکرسی ، يعنى الله لا اله الا هو الحي القيوم ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام نسائی رحمہ اللہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس سے پہلے یہ روایت گزر چکی ہے ، اور سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث بھی گزر چکی ہے ، اور ان دونوں پر کلام بھی گزر چکا ہے ، جو کتاب العلم میں ، اچھے طریقے سے سوال کرنے سے متعلق باب میں ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13806
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف