حدیث نمبر: 13802
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ وَلَدِ آدَمَ إِلَّا قَدْ أَخْطَأَ ، أَوْ هَمَّ [ بِخَطِيئَةٍ ] لَيْسَ يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَزَادَ : " فَإِنَّهُ لَمْ يَهُمَّ بِهَا وَلَمْ يَعْمَلْهَا " . وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اولاد آدم میں سے ہر ایک نے ، یا تو کسی غلطی کا ارتکاب کیا ہو گا ، یا غلطی کا ارادہ کیا ہو گا ، لیکن سیدنا یحیی بن ذکریا علیہ السلام نے ایسا نہیں کیا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” انہوں نے کبھی اس کا ارادہ نہیں کیا ، اور انہوں نے کبھی اس پر عمل نہیں کیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13802
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1359) اخرجه ابو يعلى فى المسند (2544) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1757)»