مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين— انبیاء علیہم السلام کے تذکرے سے متعلق روایات
بَابٌ فِي ذِكْرِ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا عَلَيْهِمَا السَّلَامُ . باب: حضرت یحیی بن حضرت زکریا علیہما السلام کا تذکرہ
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كُنْتُ فِي حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ نَتَذَاكَرُ فَضَائِلَ الْأَنْبِيَاءِ أَيُّهُمْ أَفْضَلُ ، فَذَكَرْنَا نُوحًا وَطُولَ عِبَادَتِهِ رَبَّهُ ، وَذَكَرْنَا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ الرَّحْمَنِ ، وَذَكَرْنَا مُوسَى مُكَلِّمَ اللَّهِ ، وَذَكَرْنَا عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ ، وَذَكَرْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا تَذْكُرُونَ بَيْنَكُمْ ؟ " . قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ذَكَرْنَا فَضَائِلَ الْأَنْبِيَاءِ أَيُّهُمْ أَفْضَلُ ، فَذَكَرْنَا نُوحًا وَطُولَ عِبَادَتِهِ رَبَّهُ ، وَذَكَرْنَا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ الرَّحْمَنِ ، وَذَكَرْنَا مُوسَى مُكَلِّمَ اللَّهِ ، وَذَكَرْنَا عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ ، وَذَكَرْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَمَنْ فَضَّلْتُمْ ؟ " . فَقُلْنَا : فَضَّلْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَعَثَكَ اللَّهُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً ، وَغَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ، وَأَنْتَ خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ أَحَدٌ خَيْرًا مِنْ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا " . قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَيْفَ ذَاكَ ؟ قَالَ : " أَلَمْ تَسْمَعُوا كَيْفَ نَعَتَهُ فِي الْقُرْآنِ ( يَايَحْيَى خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا ) إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى : ( حَيًّا ) ( مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَسَيِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِيًّا مِنَ الصَّالِحِينَ ) لَمْ يَعْمَلْ سَيِّئَةً وَلَمْ يَهِمَّ بِهَا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں مسجد میں ایک حلقے میں موجود تھا ، ہم لوگ انبیاء کرام کے فضائل کا تذکرہ کر رہے تھے کہ اُن میں سے کون زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ تو ہم نے سیدنا نوح علیہ السلام کا ذکر کیا کہ انہوں نے اپنے پروردگار کی طویل عرصہ تک عبادت کی ، ہم نے سیدنا ابراہیم خلیل الرحمن علیہ السلام کا ذکر کیا ، ہم نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا ذکر کیا ، جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا ، ہم نے سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا ذکر کیا ، ہم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا ، ابھی ہم اسی حالت میں تھے کہ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم لوگ کس بارے میں بات چیت کر رہے تھے ؟ ہم نے عرض کی : ہم لوگ انبیاء کرام کے فضائل کا ذکر کر رہے تھے کہ اُن میں سے کون زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ تو ہم نے سیدنا نوح علیہ السلام کا ذکر کیا کہ انہوں نے ایک طویل عرصے تک اپنے پروردگار کی عبادت کی ، ہم نے سیدنا ابراہیم خلیل الرحمن علیہ السلام کا ذکر کیا ، ہم نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ کیا ، جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا ، اور ہم نے سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا ذکر کیا ، اور یا رسول اللہ ! ہم نے آپ کا بھی ذکر کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر تم نے کسے افضل قرار دیا ؟ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے آپ کو افضل قرار دیا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام بنی نوع انسان کی طرف مبعوث کیا ہے ، اور آپ کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دی ہے ، اور آپ انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کسی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ یحیی بن زکریا سے زیادہ بہتر ہو ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کیسے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم نے سنا نہیں ہے ؟ کہ قرآن میں ان کی کیا صفات بیان کی گئی ہیں : ” اے یحیی ! تم کتاب کو قوت کے ساتھ حاصل کر لو ، اور ہم نے بچپن میں ہی اس کو حکم ( یعنی نبوت ) عطا کر دیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ یہ آیت اللہ تعالیٰ کے اس فرمان تک ہے : ” زندہ “ ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے کلمے کی تصدیق کرنے والا تھا ، سردار تھا اور عورتوں سے بچنے والا تھا ، اور ( ہمارے ) خاص لوگوں میں سے نبی تھا ۔ “ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) ” انہوں نے کبھی کوئی برا کام نہیں کیا تھا ، اور نہ ہی کبھی اس کا ارادہ کیا تھا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید بن جدعان ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔