مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين— انبیاء علیہم السلام کے تذکرے سے متعلق روایات
بَابُ ذِكْرِ مُوسَى الْكَلِيمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: حضرت موسیٰ کلیم اللہ کا تذکرہ
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كَانَ مَلَكُ الْمَوْتِ يَأْتِي النَّاسَ عِيَانًا ، قَالَ : فَأَتَى مُوسَى فَلَطَمَهُ ، فَفَقَأَ عَيْنَيْهِ ، فَأَتَى رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ : يَا رَبِّ ، عَبْدُكَ مُوسَى فَقَأَ عَيْنِي ، وَلَوْلَا كَرَامَتُهُ عَلَيْكَ لَعَتَبْتُ بِهِ - قَالَ يُونُسُ : لَشَقَقْتُ عَلَيْهِ - قَالَ لَهُ : اذْهَبْ إِلَى عَبْدِي فَقُلْ لَهُ : لِيَضَعَ يَدَهُ عَلَى جِلْدٍ أَوْ مَسْكِ ثَوْرٍ ، فَلَهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ وَارَتْ يَدُهُ سَنَةٌ . فَأَتَاهُ فَقَالَ : مَا بَعْدَ هَذَا ؟ قَالَ : الْمَوْتُ . قَالَ : فَالْآنَ . قَالَ : فَشَمَّهُ شَمَّةً فَقَبَضَ رُوحَهُ - قَالَ يُونُسُ : فَرَدَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ عَيْنَهُ ، فَكَانَ يَأْتِي النَّاسَ خُفْيَةً - " . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” پہلے ملک الموت علیہ السلام لوگوں کے پاس عیاں طور پر آ جایا کرتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : وہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے انہیں طمانچہ رسید کیا اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں ، وہ پروردگار کے پاس آئے اور بولے : اے میرے پروردگار ! تیرے بندے موسیٰ نے میری آنکھ پھوڑ دی ہے ، اگر تو نے اسے عزت عطا نہ کی ہوئی ہوتی ، تو میں اسے سزا دیتا ، یہاں ایک راوی نے ایک لفظ مختلف نقل کیا ہے ، پروردگار نے ان سے فرمایا : تم میرے بندے کے پاس جاؤ ! اور اس سے کہو کہ وہ اپنا ہاتھ کسی چمڑے پر رکھے ، یا کسی بیل کی کھال پر رکھے ، تو ہر ایک بال جو اس کے ہاتھ کے نیچے آئے گا ، اس کے بدلے میں اسے جائے گا ، ملک الموت سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے ( اور یہ بات بیان کی ) تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا : پھر اس کے بعد کیا ہو گا ؟ انہوں نے جواب دیا : موت ہو گی ، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: پھر ابھی ( تم میری روح قبض ) کر لو ! تو انہوں نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو ایک چیز سونگھائی اور ان کی روح قبض کر لی ۔ “ یہاں یونس نامی راوی نے یہ لفظ نقل کیے ہیں : ” اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کی آنکھ اُسے واپس کر دی تھی اور اس کے بعد وہ لوگوں کے پاس پوشیدہ طور پر آنے لگا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا ایک حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔