مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين— انبیاء علیہم السلام کے تذکرے سے متعلق روایات
بَابُ ذِكْرِ مُوسَى الْكَلِيمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: حضرت موسیٰ کلیم اللہ کا تذکرہ
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : لَمَّا كَلَّمَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الطُّورِ ، كَلَّمَهُ بِغَيْرِ الْكَلَامِ الَّذِي كَلَّمَهُ بِهِ يَوْمَ نَادَاهُ ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى : يَا رَبِّ ، هَذَا كَلَامُكَ الَّذِي كَلَّمْتَنِي بِهِ ؟ قَالَ : يَا مُوسَى ، إِنَّمَا كَلَّمْتُكَ بِقُوَّةِ عَشَرَةِ آلَافِ لِسَانٍ ، وَلِي قُوَّةُ الْأَلْسُنِ كُلِّهَا وَأَقْوَى مِنْ ذَلِكَ . فَلَمَّا رَجَعَ مُوسَى إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالُوا : يَا مُوسَى ، صِفْ لَنَا كَلَامَ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ . قَالَ : لَا تَسْتَطِيعُونَهُ ، أَلَمْ تَرَوْا إِلَى أَصْوَاتِ الصَّوَاعِقِ الَّتِي تُقْبِلُ فِي أَجْلَى جَلَاوَةٍ سَمِعْتُمُوهُ ؟ فَذَاكَ قَرِيبٌ مِنْهُ وَلَيْسَ بِهِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عِيسَى الرَّقَاشِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے طور کے دن ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کلام کیا تو یہ اس کلام سے مختلف تھا ، جس کلام کو اس نے اُس دن کیا تھا ، جب انہیں پکارا تھا ، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اے میرے پروردگار ! یہ تیرا وہی کلام ہے ؟ جس کے ساتھ تو نے میرے ساتھ کلام کیا تھا ، تو اس نے فرمایا : اے موسیٰ ! میں نے دس ہزار زبانوں کی قوت کے ہمراہ ، تمہارے ساتھ کلام کیا ہے ، اور مجھے تمام زبانوں کی قوت حاصل ہے ، بلکہ اس سے بھی زیادہ قوت حاصل ہے ، جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کی طرف واپس تشریف لائے ، تو بنی اسرائیل نے کہا: اے موسیٰ ! آپ رحمان کے کلام کی صفت ہمارے سامنے بیان کیجئے ، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے ، کیا تم نے بجلی چمکنے کی آواز سنی ہے ؟ جب وہ آتی ہے ، جب بجلی زور سے چکی ہو ، کیا تم اسے سن پاتے ہو ؟ تو وہ آواز اس کے قریب تھی ، لیکن ویسی نہیں تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن عیسیٰ رقاشی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔