حدیث کتب › مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين— انبیاء علیہم السلام کے تذکرے سے متعلق روایات
بَابٌ فِي ذِكْرِ إِبْرَاهِيمَ الْخَلِيلِ وَبَنِيهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِمْ وَسَلَّمَ . باب: حضرت ابراہیم خلیل الرحمن علیہ السلام اور ان کے صاحبزادوں کا تذکرہ اللہ تعالیٰ ہمارے نبی اور اُن حضرات پر درود و سلام نازل کرے
حدیث نمبر: 13770
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنِ السَّيِّدُ ؟ قَالَ : " يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ " . قَالُوا : فَمَا فِي أُمَّتِكَ سَيِّدٌ ؟ قَالَ : " بَلَى ، رَجُلٌ أُعْطِيَ مَالًا حَلَالًا وَرُزِقَ سَمَاحَةً ، فَأَدْنَى الْفَقِيرَ ، وَقَلَّتْ شَكَاتُهُ فِي النَّاسِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ نَافِعٌ أَبُو هُرْمُزَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : عرض کی گی : یا رسول اللہ ! سردار کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سیدنا یوسف بن سیدنا یعقوب بن سیدنا اسحاق بن سیدنا ابراہیم ( علیہم السلام ) ۔ “ لوگوں نے دریافت کیا : آپ کی امت میں سردار کون ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جی ہاں ! وہ شخص جسے حلال مال دیا گیا ہو اور نرمی عطا کی گی ہو ، وہ غریب کو قریب رکھے اور لوگوں کو اس سے شکایات کم ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نافع ابوہرمز ہے اور وہ متروک ہے ۔