کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت ابراہیم خلیل الرحمن علیہ السلام اور ان کے صاحبزادوں کا تذکرہ اللہ تعالیٰ ہمارے نبی اور اُن حضرات پر درود و سلام نازل کرے
حدیث نمبر: 13759
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ ؟ قَالَ : صَدَقُوا ، إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا أُمِرَ بِالْمَنَاسِكِ عَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَسْعَى ، فَسَابَقَهُ فَسَبَقَهُ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ ، فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ - قَالَ سُرَيْجٌ : شَيْطَانٌ - فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ ، ثُمَّ عَرَضَ لَهُ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْوُسْطَى ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ ، قَالَ : قَدْ تَلَّهُ . قَالَ يُونُسُ : وَلَمْ تَلَّهُ لِلْجَبِينِ ، وَعَلَى إِسْمَاعِيلَ قَمِيصٌ أَبْيَضُ ، قَالَ : أَبَتِ لَيْسَ لِي ثَوْبٌ تُكَفِّنُنِي فِيهِ غَيْرَهُ ، فَاخْلَعْهُ حَتَّى تُكَفِّنَنِي فِيهِ ، فَعَالَجَهُ لِيَخْلَعَهُ ، فَنُودِيَ مِنْ خَلْفِهِ : ( أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا ) . فَالْتَفَتَ إِبْرَاهِيمُ فَإِذَا هُوَ بِكَبْشٍ أَبْيَضَ أَقْرَنَ أَعْيَنَ " . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْحَجِّ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ أَبِي عَاصِمٍ الْغَنَوِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ لَهُ طَرِيقٌ رَوَاهَا أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهَا أَنَّ الذَّبِيحَ إِسْحَاقُ ، وَفِيهَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
ابوطفیل بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ کی قوم کا یہ کہنا ہے : کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی ہے ، اور یہ چیز سنت ہے ، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ان لوگوں نے ٹھیک کہا: ہے ، سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو جب مناسک حج کا حکم دیا گیا ، تو سعی والی جگہ پر شیطان ان کے سامنے آیا ، اس نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے دوڑ کا مقابلہ کیا ، تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام اس سے سبقت لے گئے ، پھر سیدنا جبرائیل علیہ السلام سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو ساتھ لے کر جمرہ عقبہ کی طرف گئے ، تو وہاں شیطان ان کے سامنے آیا ، سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اسے سات کنکریاں ماریں ، تو وہ چلا گیا ، پھر وہ جمرہ وسطی کے پاس ان کے سامنے آیا ، انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں ، راوی کہتے ہیں : وہاں انہوں نے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو لٹایا ( تاکہ انہیں قربان کریں ) سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے جسم پر سفید قمیص موجود تھی ، انہوں نے کہا: اے میرے ابا جان ! میرے پاس اس کے علاوہ کوئی ایسا کپڑا نہیں ہے ، جس میں آپ مجھے کفن دے سکیں ، تو آپ اسے اتروا لیں ، تاکہ آپ اس میں مجھے کفن دے سکیں ، سیدنا ابراہیم علیہ السلام اسے اتارنے لگے تھے کہ اسی دوران پیچھے سے پکار کر یہ کہا: گیا : ” اے ابراہیم ! تم نے اپنے خواب کو سچ ثابت دکھایا ہے ۔ “ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے وہاں مڑ کے دیکھا ، تو وہاں سفید رنگ کا خوبصورت آنکھوں والا دنبہ موجود تھا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو اس سے پہلے حج سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوعاصم غنوی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔ اس سے پہلے ان صحابی کے حوالے سے ایک طریق گزر چکا ہے ، جسے امام أحمد اور امام طبرانی نے روایت کیا ہے ، اور اس میں یہ بات ذکر ہے : جن کو ذبح کیا گیا تھا وہ سیدنا اسحاق علیہ السلام ہیں ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13759
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10628) أخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (2707)»
حدیث نمبر: 13760
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13760
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10256)»
حدیث نمبر: 13761
وَعَنْ سَمُرَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لَنَا : " إِنَّ الْأَنْبِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كُلُّ اثْنَيْنِ مِنْهُمْ خَلِيلَانِ دُونَ سَائِرِهِمْ " . قَالَ : " فَخَلِيلٌ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ خَلِيلُ اللَّهِ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے یہ فرمایا کرتے تھے : ” قیامت کے دن تمام انبیاء یوں ہوں گے کہ ان میں سے دو افراد ایک دوسرے کے خلیل ہوں گے ، باقی نہیں ہوں گے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : اُس دن اُن میں سے اللہ تعالیٰ کے خلیل سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13761
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7052)»
حدیث نمبر: 13762
وَعَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَمَّا عُرِجَ بِإِبْرَاهِيمَ رَأَى رَجُلًا يَفْجُرُ بِامْرَأَةٍ ، فَدَعَا عَلَيْهِ فَأُهْلِكَ ، ثُمَّ رَأَى رَجُلًا عَلَى مَعْصِيَةٍ ، فَدَعَا عَلَيْهِ ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ : إِنَّهُ عَبْدِي ، وَإِنَّ مَصِيرَهُ مِنِّي خِصَالٌ ثَلَاثٌ : إِمَّا أَنْ يَتُوبَ فَأَتُوبَ عَلَيْهِ ، وَإِمَّا أَنْ يَسْتَغْفِرَنِي فَأَغْفِرَ لَهُ ، وَإِمَّا أَنْ يَخْرُجَ مِنْ صُلْبِهِ مَنْ يَعْبُدُنِي ، يَا إِبْرَاهِيمُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ مِنْ أَسْمَائِي أَنِّي أَنَا الصَّبُورُ ؟ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي عَلِيٍّ اللَّهْبِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو معراج کروائی گئی ، تو انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک عورت کے ساتھ گناہ کا ارتکاب کر رہا تھا ، سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اس کے خلاف دعائے ضرر کی ، تو وہ ہلاکت کا شکار ہو گیا ، پھر انہوں نے ایک اور شخص کو گناہ کرتے ہوئے دیکھا ، تو انہوں نے اس کے خلاف دعائے ضرر کی ، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف یہ وحی کی : یہ میرا بندہ ہے ، اور اس نے لوٹ کے میری طرف آنا ہے ، تین صورتیں ہیں ، یا تو یہ ہے کہ یہ توبہ کر لے گا اور میں اس کی توبہ قبول کر لوں گا ، یا یہ ہے کہ یہ مجھ سے مغفرت طلب کرے گا ، تو میں اس کی مغفرت کر دوں گا ، یا یہ ہے کہ اس کی پشت میں سے وہ لوگ نکلیں گے ، جو میری عبادت کریں گے ، اے ابراہیم ! کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ میرے اسماء میں سے ، ایک اسم یہ ہے کہ میں ” صبور “ ہوں ( یعنی برداشت کرنے والا ہوں ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن ابوعلی لہبی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13762
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 13763
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ قَصْرًا مِنْ دُرَّةٍ لَا صَدْعَ فِيهِ وَلَا وَهَنٍ ، أَعَدَّهُ اللَّهُ لِخَلِيلِهِ إِبْرَاهِيمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نُزُلًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جنت میں کھوکھلے موتی سے بنا ہوا ایک محل ہے ، جس میں کوئی دراڑ اور کوئی کمزوری نہیں ہے ، اللہ تعالیٰ نے وہ اپنے خلیل سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی مہمان نوازی کے لئے تیار کیا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13763
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2347 و 2346)»
حدیث نمبر: 13764
وَعَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أُرِيتُ الْأَنْبِيَاءَ ، فَأَنَا شَبِيهُ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے انبیاء دکھائے گئے ، تو میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ مشابہت رکھتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13764
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (2187)»
حدیث نمبر: 13765
وَعَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ أَوَّلَ مَنْ يُكْسَى مِنَ الْخَلَائِقِ إِبْرَاهِيمُ - يَعْنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ - " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مخلوق میں سب سے پہلے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا ۔ “ راوی کہتے ہیں : یعنی قیامت کے دن ( لباس پہنایا جائے گا ) ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13765
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2348)»
حدیث نمبر: 13766
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَمَّا أُلْقِيَ إِبْرَاهِيمُ فِي النَّارِ قَالَ : اللَّهُمَّ إِنَّكَ فِي السَّمَاءِ وَاحِدٌ ، وَأَنَا فِي الْأَرْضِ وَاحِدٌ أَعْبُدُكَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ وَيُخَالِفُ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا ، تو انہوں نے کہا: ” اے اللہ ! بے شک تو آسمان میں ایک ہے ، اور میں زمین میں ایک فرد ہوں ، جو تیری عبادت کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عمر بن حفص ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کرتا ہے اور دوسروں کے برخلاف روایت نقل کرتا ہے ، جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13766
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2349)»
حدیث نمبر: 13767
وَعَنِ الْعَبَّاسِ عَنِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " قَالَ دَاوُدُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَسْأَلُكَ بِحَقِّ آبَائِي إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ فَقَالَ : أَمَّا إِبْرَاهِيمُ ، فَأُلْقِيَ فِي النَّارِ فَصَبَرَ مِنْ أَجْلِي ، وَتِلْكَ بَلِيَّةٌ لَمْ تَنَلْكَ ، وَأَمَّا إِسْحَاقُ فَبَذَلَ نَفْسَهُ لِيُذْبَحَ ، فَصَبَرَ مِنْ أَجْلِي ، وَتِلْكَ بَلِيَّةٌ لَمْ تَنَلْكَ ، وَأَمَّا يَعْقُوبُ ، فَغَابَ عَنْهُ يُوسُفُ وَتِلْكَ بَلِيَّةٌ لَمْ تَنَلْكَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، مِنْ رِوَايَةِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سیدنا داؤد نے کہا: میں تجھ سے اپنے آباؤ اجداد کے حق کے وسیلے سے دعا کرتا ہوں ( وہ آباؤ اجداد ) سیدنا ابراہیم علیہ السلام سیدنا اسحاق علیہ السلام اور سیدنا یعقوب علیہ السلام ہیں ، تو پروردگار نے فرمایا : جہاں تک ابراہیم کا تعلق ہے ، تو اسے میں نے آگ میں ڈال دیا ، تو اس نے میری وجہ سے صبر سے کام لیا اور اس آزمائش کا تمہیں سامنا نہیں کرنا پڑا ، اور جہاں تک اسحاق کا تعلق ہے ، تو اس نے اپنے آپ کو پیش کر دیا ، تاکہ اسے ذبح کر دیا جائے ، تو اس نے میری خاطر صبر سے کام لیا ، تو تمہیں اس کا سامنا نہیں کرنا پڑا ، جہاں تک یعقوب کا تعلق ہے ، تو یوسف اس سے دور ہو گیا تھا ، یہ ایسی آزمائش ہے ، جو تمہیں لاحق نہیں ہوئی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے ابوسعید کی علی بن زید سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور میں ان سے واقف نہیں ہوں اور علی بن زید نامی راوی ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13767
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2338)»
حدیث نمبر: 13768
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ سُئِلَ : مَنْ أَكْرَمُ النَّاسِ ؟ قَالَ : " يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ ذَبِيحُ اللَّهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَبَقِيَّةُ مُدَلِّسٌ ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا : لوگوں میں سب سے زیادہ معزز کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سیدنا یوسف علیہ السلام ، جو سیدنا یعقوب علیہ السلام کے صاحبزادے ہیں ، جو سیدنا اسحاق ذبیح اللہ علیہ السلام کے صاحبزادے تھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، بقیہ نامی راوی مدلس ہے ، اور ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد ( سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13768
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10278)»
حدیث نمبر: 13769
وَعَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ قَالَ : فَاخَرَ أَسْمَاءُ بْنُ خَارِجَةَ رَجُلًا فَقَالَ : أَنَا ابْنُ الْأَشْيَاخِ الْكِرَامِ . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : ذَاكَ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ ذَبِيحِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ اللَّهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوُقُوفًا بِإِسْنَادَيْنِ ، رِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ غَيْرَ أَنَّ مَشَايِخَ الطَّبَرَانِيِّ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
ابواحوص بیان کرتے ہیں : اسماء بن خارجہ نے ایک شخص کے سامنے فخر کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہا: میں معزز بزرگوں کا بیٹا ہوں ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” وہ تو سیدنا یوسف بن یعقوب بن اسحاق ذبیح اللہ بن ابراہیم خلیل اللہ تھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے موقوف روایت کے طور پر دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دو میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں تاہم امام طبرانی کے مشائخ سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13769
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8916)»
حدیث نمبر: 13770
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنِ السَّيِّدُ ؟ قَالَ : " يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ " . قَالُوا : فَمَا فِي أُمَّتِكَ سَيِّدٌ ؟ قَالَ : " بَلَى ، رَجُلٌ أُعْطِيَ مَالًا حَلَالًا وَرُزِقَ سَمَاحَةً ، فَأَدْنَى الْفَقِيرَ ، وَقَلَّتْ شَكَاتُهُ فِي النَّاسِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ نَافِعٌ أَبُو هُرْمُزَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : عرض کی گی : یا رسول اللہ ! سردار کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سیدنا یوسف بن سیدنا یعقوب بن سیدنا اسحاق بن سیدنا ابراہیم ( علیہم السلام ) ۔ “ لوگوں نے دریافت کیا : آپ کی امت میں سردار کون ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جی ہاں ! وہ شخص جسے حلال مال دیا گیا ہو اور نرمی عطا کی گی ہو ، وہ غریب کو قریب رکھے اور لوگوں کو اس سے شکایات کم ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نافع ابوہرمز ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13770
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً