مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين— انبیاء علیہم السلام کے تذکرے سے متعلق روایات
بَابٌ فِي ذِكْرِ إِبْرَاهِيمَ الْخَلِيلِ وَبَنِيهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِمْ وَسَلَّمَ . باب: حضرت ابراہیم خلیل الرحمن علیہ السلام اور ان کے صاحبزادوں کا تذکرہ اللہ تعالیٰ ہمارے نبی اور اُن حضرات پر درود و سلام نازل کرے
وَعَنِ الْعَبَّاسِ عَنِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " قَالَ دَاوُدُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَسْأَلُكَ بِحَقِّ آبَائِي إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ فَقَالَ : أَمَّا إِبْرَاهِيمُ ، فَأُلْقِيَ فِي النَّارِ فَصَبَرَ مِنْ أَجْلِي ، وَتِلْكَ بَلِيَّةٌ لَمْ تَنَلْكَ ، وَأَمَّا إِسْحَاقُ فَبَذَلَ نَفْسَهُ لِيُذْبَحَ ، فَصَبَرَ مِنْ أَجْلِي ، وَتِلْكَ بَلِيَّةٌ لَمْ تَنَلْكَ ، وَأَمَّا يَعْقُوبُ ، فَغَابَ عَنْهُ يُوسُفُ وَتِلْكَ بَلِيَّةٌ لَمْ تَنَلْكَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، مِنْ رِوَايَةِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سیدنا داؤد نے کہا: میں تجھ سے اپنے آباؤ اجداد کے حق کے وسیلے سے دعا کرتا ہوں ( وہ آباؤ اجداد ) سیدنا ابراہیم علیہ السلام سیدنا اسحاق علیہ السلام اور سیدنا یعقوب علیہ السلام ہیں ، تو پروردگار نے فرمایا : جہاں تک ابراہیم کا تعلق ہے ، تو اسے میں نے آگ میں ڈال دیا ، تو اس نے میری وجہ سے صبر سے کام لیا اور اس آزمائش کا تمہیں سامنا نہیں کرنا پڑا ، اور جہاں تک اسحاق کا تعلق ہے ، تو اس نے اپنے آپ کو پیش کر دیا ، تاکہ اسے ذبح کر دیا جائے ، تو اس نے میری خاطر صبر سے کام لیا ، تو تمہیں اس کا سامنا نہیں کرنا پڑا ، جہاں تک یعقوب کا تعلق ہے ، تو یوسف اس سے دور ہو گیا تھا ، یہ ایسی آزمائش ہے ، جو تمہیں لاحق نہیں ہوئی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے ابوسعید کی علی بن زید سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور میں ان سے واقف نہیں ہوں اور علی بن زید نامی راوی ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گی ہے ۔