مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين— انبیاء علیہم السلام کے تذکرے سے متعلق روایات
بَابٌ فِي ذِكْرِ إِبْرَاهِيمَ الْخَلِيلِ وَبَنِيهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِمْ وَسَلَّمَ . باب: حضرت ابراہیم خلیل الرحمن علیہ السلام اور ان کے صاحبزادوں کا تذکرہ اللہ تعالیٰ ہمارے نبی اور اُن حضرات پر درود و سلام نازل کرے
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ ؟ قَالَ : صَدَقُوا ، إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا أُمِرَ بِالْمَنَاسِكِ عَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَسْعَى ، فَسَابَقَهُ فَسَبَقَهُ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ ، فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ - قَالَ سُرَيْجٌ : شَيْطَانٌ - فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ ، ثُمَّ عَرَضَ لَهُ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْوُسْطَى ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ ، قَالَ : قَدْ تَلَّهُ . قَالَ يُونُسُ : وَلَمْ تَلَّهُ لِلْجَبِينِ ، وَعَلَى إِسْمَاعِيلَ قَمِيصٌ أَبْيَضُ ، قَالَ : أَبَتِ لَيْسَ لِي ثَوْبٌ تُكَفِّنُنِي فِيهِ غَيْرَهُ ، فَاخْلَعْهُ حَتَّى تُكَفِّنَنِي فِيهِ ، فَعَالَجَهُ لِيَخْلَعَهُ ، فَنُودِيَ مِنْ خَلْفِهِ : ( أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا ) . فَالْتَفَتَ إِبْرَاهِيمُ فَإِذَا هُوَ بِكَبْشٍ أَبْيَضَ أَقْرَنَ أَعْيَنَ " . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْحَجِّ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ أَبِي عَاصِمٍ الْغَنَوِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ لَهُ طَرِيقٌ رَوَاهَا أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهَا أَنَّ الذَّبِيحَ إِسْحَاقُ ، وَفِيهَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤ابوطفیل بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ کی قوم کا یہ کہنا ہے : کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی ہے ، اور یہ چیز سنت ہے ، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ان لوگوں نے ٹھیک کہا: ہے ، سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو جب مناسک حج کا حکم دیا گیا ، تو سعی والی جگہ پر شیطان ان کے سامنے آیا ، اس نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے دوڑ کا مقابلہ کیا ، تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام اس سے سبقت لے گئے ، پھر سیدنا جبرائیل علیہ السلام سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو ساتھ لے کر جمرہ عقبہ کی طرف گئے ، تو وہاں شیطان ان کے سامنے آیا ، سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اسے سات کنکریاں ماریں ، تو وہ چلا گیا ، پھر وہ جمرہ وسطی کے پاس ان کے سامنے آیا ، انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں ، راوی کہتے ہیں : وہاں انہوں نے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو لٹایا ( تاکہ انہیں قربان کریں ) سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے جسم پر سفید قمیص موجود تھی ، انہوں نے کہا: اے میرے ابا جان ! میرے پاس اس کے علاوہ کوئی ایسا کپڑا نہیں ہے ، جس میں آپ مجھے کفن دے سکیں ، تو آپ اسے اتروا لیں ، تاکہ آپ اس میں مجھے کفن دے سکیں ، سیدنا ابراہیم علیہ السلام اسے اتارنے لگے تھے کہ اسی دوران پیچھے سے پکار کر یہ کہا: گیا : ” اے ابراہیم ! تم نے اپنے خواب کو سچ ثابت دکھایا ہے ۔ “ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے وہاں مڑ کے دیکھا ، تو وہاں سفید رنگ کا خوبصورت آنکھوں والا دنبہ موجود تھا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو اس سے پہلے حج سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوعاصم غنوی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔ اس سے پہلے ان صحابی کے حوالے سے ایک طریق گزر چکا ہے ، جسے امام أحمد اور امام طبرانی نے روایت کیا ہے ، اور اس میں یہ بات ذکر ہے : جن کو ذبح کیا گیا تھا وہ سیدنا اسحاق علیہ السلام ہیں ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔