مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين— انبیاء علیہم السلام کے تذکرے سے متعلق روایات
بَابٌ فِي ذِكْرِ نُوحٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: حضرت نوح علیہ السلام کا تذکرہ
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَوْ رَحِمَ اللَّهُ مِنْ قَوْمِ نُوحٍ أَحَدًا لَرَحِمَ أُمَّ الصَّبِيِّ " . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَانَ نُوحٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَثَ فِي قَوْمِهِ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا يَدْعُوهُمْ ، حَتَّى كَانَ آخِرَ زَمَانِهِ ، وَغَرَسَ شَجَرَةً فَعَظُمَتْ وَذَهَبَتْ كُلَّ مَذْهَبٍ ، ثُمَّ قَطَعَهَا وَجَعَلَ يَعْمَلُهَا سَفِينَةً ، وَيَمُرُّونَ عَلَيْهِ يَسْأَلُونَهُ ، فَيَقُولُ : أَعْمَلُهَا سَفِينَةً . فَيَسْخَرُونَ مِنْهُ وَيَقُولُونَ : يَعْمَلُ سَفِينَةً فِي الْبَرِّ ، وَكَيْفَ تَجْرِي ؟ قَالَ : سَوْفَ تَعْلَمُونَ . فَلَمَّا فَرَغَ مِنْهَا وَفَارَ التَّنُّورُ وَكَثُرَ الْمَاءُ فِي السِّكَكِ ، خَشِيَتْ أُمُّ الصَّبِيِّ عَلَيْهِ وَكَانَتْ تُحِبُّهُ حُبًّا شَدِيدًا ، فَخَرَجَتْ إِلَى الْجَبَلِ حَتَّى بَلَغَتْ ثُلُثَهُ ، فَلَمَّا بَلَغَهَا الْمَاءُ خَرَجَتْ حَتَّى بَلَغَتْ ثُلُثَيِ الْجَبَلِ ، فَلَمَّا بَلَغَهَا الْمَاءُ خَرَجَتْ بِهِ حَتَّى اسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْجَبَلِ ، فَلَمَّا بَلَغَ الْمَاءُ فِيهَا ، رَفَعَتْهُ بِيَدَيْهَا حَتَّى ذَهَبَ بِهِمَا الْمَاءُ ، فَلَوْ رَحِمَ اللَّهُ مِنْهُمْ أَحَدًا رَحِمَ أُمِّ الصَّبِيِّ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ ابْنُ الْمَدِينِيِّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” اگر اللہ تعالیٰ نے سیدنا نوح علیہ السلام کی قوم میں سے کسی پر رحم کرنا ہوتا ، تو وہ بچے کی ماں پر رحم کر دیتا ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( وضاحت کرتے ہوئے ) ارشاد فرمایا : ” سیدنا نوح علیہ السلام اپنی قوم میں ایک ہزار سال سے پانچ سال کم تک مقیم رہے ، وہ ان لوگوں کو دعوت دیتے رہے یہاں تک کہ اپنے آخری زمانے میں انہوں نے ایک درخت بویا ، وہ بڑا ہو گیا ، جب وہ بڑا ہو گیا ، تو انہوں نے اسے کاٹ دیا اور اس کے ذریعے کشتی تیار کرنا شروع کی ، لوگ ان کے پاس سے گزرتے تھے اور ان سے دریافت کرتے تھے ، تو وہ یہ فرماتے تھے کہ میں کشتی تیار کر رہا ہوں ، تو لوگ ان کا مذاق اڑاتے تھے اور یہ کہتے تھے : آپ خشکی میں کشتی تیار کر رہے ہیں ؟ یہ چلے گی کیسے ؟ تو سیدنا نوح علیہ السلام کہتے تھے : تمہیں عنقریب پتہ چل جائے گا ، جب سیدنا نوح علیہ السلام اسے بنا کر فارغ ہوئے اور تنور میں سے پانی پھوٹ پڑا ، اور گلیوں میں پانی زیادہ ہو گیا ، تو ایک بچے کی ماں کو اس کے حوالے سے اندیشہ ہوا ، وہ عورت اس بچے سے شدید محبت کرتی تھی ، وہ اسے لے کر پہاڑ کی طرف گئی ، یہاں تک کہ وہ پہاڑ کے ایک تہائی حصے تک پہنچ گئی ، جب پانی وہاں تک پہنچ گیا ، تو وہ وہاں سے نکلی اور پہاڑ کے دو تہائی حصے تک پہنچ گئی ، جب پانی وہاں تک پہنچ گیا تو وہ اس بچے کو لے کر نکلی یہاں تک کہ پہاڑ کے اوپر تک پہنچ گئی ، جب پانی اس کی گردن تک پہنچ گیا ، تو اس نے دونوں ہاتھوں کے ذریعے بچے کو بلند کر دیا ، یہاں تک کہ پانی اُن دونوں کو بہا کر لے گیا ، اگر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں میں سے کسی پر رحم کرنا ہوتا ، تو اُس بچے کی ماں پر رحم کرتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن یعقوب زمعی ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ابن مدینی نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔