مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين— انبیاء علیہم السلام کے تذکرے سے متعلق روایات
بَابٌ فِي ذِكْرِ إِدْرِيسَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: حضرت ادریس علیہ السلام کا تذکرہ
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ إِدْرِيسَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ صَدِيقًا لِمَلَكِ الْمَوْتِ ، فَسَأَلَهُ أَنْ يُرِيَهُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ ، فَصَعِدَ بِإِدْرِيسَ فَأَرَاهُ النَّارَ ، فَفَزِعَ مِنْهَا وَكَادَ يُغْشَى عَلَيْهِ ، فَالْتَفَّ عَلَيْهِ مَلَكُ الْمَوْتِ بِجَنَاحِهِ ، فَقَالَ مَلَكُ الْمَوْتِ : أَلَيْسَ قَدْ رَأَيْتَهَا ؟ قَالَ : بَلَى ، وَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ قَطُّ . ثُمَّ انْطَلَقَ بِهِ حَتَّى أَرَاهُ الْجَنَّةَ فَدَخَلَهَا ، فَقَالَ مَلَكُ الْمَوْتِ : انْطَلِقْ قَدْ رَأَيْتَهَا . قَالَ : إِلَى أَيْنَ ؟ قَالَ مَلَكُ الْمَوْتِ : حَيْثُ جِئْتُ . قَالَ إِدْرِيسُ : لَا وَاللَّهِ لَا أَخْرُجُ مِنْهَا بَعْدَ أَنْ دَخَلْتُهَا . فَقِيلَ لِمَلَكِ الْمَوْتِ : أَلَيْسَ أَنْتَ أَدْخَلْتَهُ إِيَّاهَا ؟ وَأَنَّهُ لَيْسَ لِأَحَدٍ دَخَلَهَا أَنْ يَخْرُجَ مِنْهَا ؟ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ الْمِصِّيصِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سیدنا ادریس علیہ السلام ملک الموت کے دوست تھے ، انہوں نے ملک الموت سے یہ فرمائش کی : وہ انہیں جنت اور جہنم دکھائیں ، تو ملک الموت سیدنا ادریس علیہ السلام کو ساتھ لے کر گئے اور انہیں جہنم دکھائی تو وہ اس سے گھبرا گئے اور قریب تھا کہ وہ بے ہوش ہو جاتے ، ملک الموت نے اپنے پَر ان پر ڈالے اور ملک الموت نے کہا: کیا آپ نے اسے دیکھا نہیں ہے ؟ تو انہوں نے کہا: دیکھا ہے ، میں نے آج کی طرح کی ( خوف زدہ کرنے والی کوئی چیز ) کبھی نہیں دیکھی ، پھر ملک الموت انہیں ساتھ لے کر گئے ، یہاں تک کہ انہیں جنت دکھائی ، وہ جنت میں داخل ہو گئے ، پھر ملک الموت نے کہا: اب چلئے ! آپ نے یہ دیکھ لی ہے ، انہوں نے کہا: کہاں ؟ ملک الموت نے کہا: جہاں سے آپ آئے ہیں ، سیدنا اور ادریس علیہ السلام نے کہا: جی نہیں ! اللہ کی قسم ! میں اس میں داخل ہونے کے بعد اس میں سے کبھی نہیں نکلوں گا ، تو ملک الموت سے کہا: گیا : کیا تم نے ہی انہیں اس میں داخل کروایا ہے ، جو اس میں داخل ہو جائے ، اس کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اس سے نکل جائے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ابراہیم بن خالد مصیصی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔