مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين— انبیاء علیہم السلام کے تذکرے سے متعلق روایات
بَابُ ذِكْرِ أَبِينَا آدَمَ أَبِي الْبَشَرِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: ہمارے جد امجد حضرت آدم علیہ السلام کا تذکرہ ، جو ابوالبشر ہیں
وَعَنْ عُتَيٍّ قَالَ : رَأَيْتُ شَيْخًا بِالْمَدِينَةِ يَتَكَلَّمُ ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَقَالُوا : هَذَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ . فَقَالَ : " إِنَّ آدَمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَضَرَهُ الْمَوْتُ فَقَالَ لِبَنِيهِ : أَيْ بَنِيَّ ، إِنِّي أَشْتَهِي مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ . فَذَهَبُوا يَطْلُبُونَ لَهُ فَاسْتَقْبَلَتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ مَعَهُمْ أَكْفَانُهُ وَحَنُوطُهُ ، وَمَعَهُمُ الْفُئُوسُ وَالْمَسَاحِي وَالْمَكَاتِلُ ، فَقَالُوا : يَا بَنِي آدَمَ ، مَا تُرِيدُونَ وَمَا تَطْلُبُونَ ؟ أَوْ مَا تُرِيدُونَ وَأَيْنَ تَذْهَبُونَ ؟ قَالُوا : أَبُونَا مَرِيضٌ فَاشْتَهَى مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ . قَالُوا لَهُمْ : ارْجِعُوا فَقَدْ قُضِيَ أَبُوكُمْ . فَجَاءُوا ، فَلَمَّا رَأَتْهُمْ حَوَّاءُ عَرَفَتْهُمْ فَلَاذَتْ بِآدَمَ ، فَقَالَ : إِلَيْكِ عَنِّي ، فَإِنَّمَا أُتِيتُ مِنْ قِبَلِكَ ، خَلِّي بَيْنِي وَبَيْنَ مَلَائِكَةِ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى . فَقَبَضُوهُ وَغَسَّلُوهُ وَكَفَّنُوهُ وَحَنَّطُوهُ ، وَحَفَرُوا لَهُ وَلَحَدُوا لَهُ ، فَصَلُّوا عَلَيْهِ ، ثُمَّ دَخَلُوا قَبْرَهُ فَوَضَعُوهُ فِي قَبْرِهِ وَوَضَعُوا عَلَيْهِ اللَّبِنَ ، ثُمَّ خَرَجُوا مِنَ الْقَبْرِ ثُمَّ حَثَوْا عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالُوا : يَا بَنِي آدَمَ هَذِهِ سُنَّتُكُمْ " . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ عُتَيِّ بْنِ ضَمْرَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤عتی بیان کرتے ہیں : میں نے مدینہ منورہ میں ایک بزرگ کو گفتگو کرتے ہوئے دیکھا تو ان کے بارے میں دریافت کیا ، تو لوگوں نے بتایا : یہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں ، انہوں نے یہ بتایا : ” جب سیدنا آدم علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا ، تو انہوں نے اپنے صاحبزادوں سے فرمایا : میرے بیٹو ! مجھے جنت کے پھلوں کی خواہش ہو رہی ہے ، تو وہ لوگ ان کے لئے وہ تلاش کرنے کے لئے نکل کھڑے ہوئے ، ان کا سامنا فرشتوں سے ہوا ، جن کے ساتھ سیدنا آدم علیہ السلام کا کفن تھا اور انہیں لگانے والی خوشبو تھی ، ان فرشتوں کے ساتھ پھاؤڑے ، بیلچے اور کدالیں تھیں ، انہوں نے کہا: اے اولاد آدم ! تم کہاں جا رہے ہو ؟ کیا تلاش کر رہے ہو ؟ ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) تم کیا چاہتے ہو ؟ اور تم کہاں جا رہے ہو ؟ تو نہوں نے بتایا : ہمارے والد بیمار ہیں ، انہیں جنت کے پھلوں کی طلب ہو رہی ہے ، تو ان فرشتوں نے ان بیٹوں سے کہا: تم لوگ واپس چلے جاؤ ! کیونکہ تمہارے والد کا آخری وقت آ گیا ہے ، وہ لوگ واپس آئے ، جب سیدہ حواء رضی اللہ عنہا نے ان فرشتوں کو دیکھا تو انہیں پہچان لیا ، وہ سیدنا آدم علیہ السلام نام سے لپٹ گئیں ، سیدنا آدم علیہ السلام نے فرمایا : تم مجھ سے الگ ہو جاؤ ! کیونکہ تم سے پہلے میری وفات کا وقت آ گیا ہے ، تم میرے اور میرے پروردگار کے فرشتوں کے درمیان جگہ چھوڑ دو ! فرشتوں نے سیدنا آدم علیہ السلام کی روح قبض کر لی ، انہیں غسل دیا ، انہیں کفن دیا ، انہیں خوشبو لگائی ان کے لئے قبر کھودی ، ان کے لئے لحد تیار کی ، ان کی نماز جنازہ ادا کی ، پھر وہ فرشتے ان کی قبر میں اترے اور انہیں قبر میں رکھا اور ان پر اینٹیں لگائیں ، پھر وہ قبر سے باہر آئے اور ان پر مٹی ڈالی اور پھر یہ بات بیان کی : اے اولاد آدم ! یہ تمہارے لئے مخصوص طریقہ ہو گا ۔ “
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عتی بن ضمرہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔