حدیث نمبر: 13727
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ اللِّسَانُ " . فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا صَدَقَةُ اللِّسَانِ ؟ قَالَ : " الشَّفَاعَةُ يُفَكُّ بِهَا الْأَسِيرُ ، وَيُحْقَنُ بِهَا الدَّمُ ، وَتَجُرُّ بِهَا الْمَعْرُوفَ وَالْإِحْسَانَ إِلَى أَخِيكَ ، وَتَدْفَعُ عَنْهُ الْكَرِيهَةَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سب سے زیادہ فضیلت والا صدقہ ، زبان والا ہوتا ہے ، عرض کی گی : یا رسول اللہ ! زبان کا صدقہ کیا ہوتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایسی سفارش ، جو کسی قیدی کو چھڑا دے ، یا خون کے بدلے کے معاملے کو ختم کر دے ، یا جس کے ذریعے تم کوئی بھلائی ، یا احسان اپنے بھائی کی طرف لے جاؤ ، یا اُس سے ناپسندیدہ صورت حال کو دور کر دو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر ہذلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13727
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6962)»